صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 61 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 61

حيح البخاری جلد ۲ ۶۱ ١٠ - كتاب الأذان وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلاً وَقَدْ أُقِيِّمَتِ الصَّلَاةُ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ رکعتیں پڑھ رہا ہے۔حالانکہ نماز کی تکبیر ہو چکی تھی۔اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاثَ بِهِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ٹھہرے النَّاسُ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تو لوگوں نے اسے گھیر لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟ الصُّبْحَ نے اس سے فرمایا: کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتے ہو؟ کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتے ہو؟ أَرْبَعًا؟ تَابَعَهُ غُنْدَرٌ وَمُعَاذْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَالِكِ غندر اور معاذ نے شعبہ سے،شعبہ نے حضرت مالک (بن وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ بُحَسَید سے ) روایت کرتے ہوئے ابن اسحاق کی طرح حَفْصٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْن بُحَيْنَةَ وَقَالَ بیان کیا۔اور ابن اسحاق نے سعد سے، سعد نے حفص حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا سَعْدٌ عَنْ حَفْصٍ عَنْ سے حفص نے حضرت عبداللہ ابن بحسنینہ سے نقل کیا اور حماد نے کہا کہ سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حفص سے، مالك۔تشریح: حفص نے حضرت مالک ( ابن محسنینہ) سے روایت کی۔إِذَا أَقِيِّمَتِ الصَّلَوةُ فَلَاصَلوةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ: عنوان باب کے الفاظ حدیث نبوی کے ہیں۔جو امام مسلم اور اصحاب سنن نے نقل کی ہے۔چونکہ اس کے موضوع یا موقوف ہونے کی نسبت اختلاف ہے اس لئے امام بخاری نے اس کو بطور عنوان باب کے لکھ کر روایت نمبر ۶۶۳ سے استدلال کیا ہے۔جس میں صرف نماز صبح کا ذکر ہے کہ تکبیر اقامت کے بعد حضرت مالک ابن بحسینہ دوسنتیں پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۹۵) جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تکبیر اقامت کے بعد تو دور کعتیں ہی ہوتی ہیں نہ کہ چار یعنی سنتیں ایک نفلی نماز ہے۔اس کو فرض کی حیثیت نہیں دینی چاہیے۔جب نماز فریضہ ادا کرنے کے لئے حَيَّ عَلَی الصَّلوة کے بعد قَدْ قَامَتِ الصَّلوة کا اعلان ہو جائے تو پھر اور کوئی نماز جائز نہیں۔جمہور کا یہی مذہب ہے کہ نوافل چھوڑ کر جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے اور ان کو بعد میں بطور قضاء پڑھ لے اور جو فقہاء قضاء کے قائل نہیں ان کی رائے ہے کہ اگر اسے یقین ہو کہ وہ پہلی رکعت میں شامل ہو جائے گا تو پھر وہ نوافل کو جو پڑھ رہا ہے ختم کر لے۔مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اس بارے میں واضح ہے۔مسلم كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب كراهية الشروع فى الناقلة بعد شروع الموذن۔۔ترمذی كتاب الصلاة، باب ماجاء اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة۔نسائی کتاب الامامة۔باب ما يكره من الصلاة عند الاقامة۔