صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 62
حيح البخاري - جلد ۲ ۶۲ ١٠ - كتاب الأذان يُقَالُ لَهُ مَالِكُ ابْنُ بُحَيْنَةَ مذکورہ بالا روایت کے آخر میں حضرت ابن بحسینہ کے نام کی نسبت اختلاف کا ذکر کیا گیا ہے کہ آیا مالک ہے یا عبداللہ۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے دوسندیں پیش کر کے ترجیح اسی امر کو دی ہے کہ ان کا نام حضرت مالک ہے۔باب ۳۹: حَدُّ الْمَرِيضِ أَنْ يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ بیمار کے لئے جماعت میں حاضر ہو کر نماز پڑھنے کی حد ٦٦٤: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ :۶۶۴ عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا، غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: اعمش الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ قَالَ الْأَسْوَدُ نے ہمیں بتایا۔ابراہیم سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: اسود کہتے تھے : ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا پاس تھے کہ ہم نے نماز کی پابندی اور اس کی تعظیم کا فَذَكَرْنَا الْمُوَاظَبَةَ عَلَى الصَّلَاةِ ذکر کیا تو ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: جب وَالتَّعْظِيْمَ لَهَا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي جس میں آپ فوت ہو گئے تھے نماز کا وقت ہوا اور مَاتَ فِيْهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِنَ اذان دی گئی۔آپ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئیں۔تو آپ سے عرض کیا گیا کہ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلَّ بِالنَّاسِ ابوبکر دل کے بہت نرم آدمی ہیں اگر آپ کی جگہ فَقِيْلَ لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيْفَ إِذَا کھڑے ہوئے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھاسکیں گے۔قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ تُصَلِّيَ آپ نے دوبارہ فرمایا: آپ سے پھر وہی عرض کیا گیا بِالنَّاسِ وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ تو آپ نے تیسری بار پھر فرمایا: اور کہا: تم تو یوسف فَقَالَ إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ مُرُوا والی عورتیں ہو۔ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔تب حضرت ابو بکر نکلے اور نماز پڑھائی۔أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِ بِالنَّاسِ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ میں کچھ تخفیف فَصَلَّى فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے ساتھ سہارا لئے وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةٌ فَخَرَجَ يُهَادِی ہوئے نکلے۔( مجھے یہ ایسا ہی یاد ہے ) گویا کہ میں