صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 60
حيح البخاری جلد ۲ ۶۰ ١٠ - كتاب الأذان ( جبکہ ) وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کی حالت میں پکار رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔اس کی جزا کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے۔پس کیا جو مومن ہو اس جیسا ہو سکتا ہے جو فاسق ہو؟ وہ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔جہاں تک ان کا تعلق ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے تو ان کے لیے (ان کے شایان شان ) قیام کے باغات ہوں گے مہمانی کے طور پر ، بسبب اس کے جو وہ کیا کرتے تھے۔} فول کے معنی مہمان نوازی ، رزق کریم ، عطا فضل اور برکت۔ان آیات کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام سن کر سجدوں میں گرنے والوں اور ذکر الہی میں مشغول رہنے والوں کے لئے ایسی ایسی نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں کہ ان کے خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔وہ ایک ایسی مہمانی ہے جو ان کے ایمان و عمل کی وجہ سے ان کے سامنے پیش کی جائے گی۔(تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی۔دوسرا سوال۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۹۶ تا ۴۰۰ و سرمه چشمه آری روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵ تا ۱۶۲) بَاب ۳۸ : إِذَا أُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ جب نماز کی تکبیر اقامت کہی جائے تو کوئی نماز نہ پڑھی جائے سوائے فرض نماز کے ٦٦٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ :۶۶۳: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَنْ کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے أَبِيْهِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ باپ سے، ان کے باپ نے حفص بن عاصم سے، بْنِ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ حفص نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحسینہ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ۔روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے۔قَالَ وَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ (عبد العزیز نے ) کہا : عبد الرحمن نے بھی مجھ سے حَدَّثَنَا بَهْرُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بیان کیا، کہا: بہنر بن اسد نے ہمیں بتایا، کہا: شعبہ و قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعد بن ابراہیم نے مجھے سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ بتایا، کہا: میں نے حفص بن عاصم سے سنا۔انہوں رَجُلًا مَنَ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ ابْنُ نے کہا: میں نے آزد کے ایک آدمی سے سنا۔جو بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت مالک بن نحسینہ کہلاتے تھے کہ رسول اللہ