صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 752
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۲ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣٧٤ : حَدَّثَنَا عَيَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ :۱۳۷۴ عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيْدٌ عَنْ عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) سعید ( بن قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي انسؓ نے ان سے بیان کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ فرمایا: بنده جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی فَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ اس سے لوٹ جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز بھی سنتا فَيَقُولَانِ مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا ہے۔اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہیں اور کہتے ہیں: تو اس شخص محمد کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ تھا؟ پس جو مومن ہے وہ کہے گا: میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ وَرَسُوْلُهُ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں تو اس سے کہا جائے گا: مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ آگ میں پنا ٹھکانا دیکھ ک اللہ تعالی نے تیرے لئے اس کی الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيْعًا قَالَ قَتَادَةُ جگہ جنت میں ٹھکانا بنا دیا ہے۔تو وہ ان دونوں کو ہی اکٹھا وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ ثُمَّ دیکھے گا۔قتادہ نے کہا: اور ہم سے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس رَجَعَ إِلَى حَدِيْثِ أَنَسٍ قَالَ وَأَمَّا کی قبرمیں اس کے لئے کشادگی کر دی جائے گی۔پھر قتادہ نے الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ حضرت انس کی یہ حدیث بیان کرنا شروع کی۔کہا، لیکن جو منافق یا کافر ہے۔اس سے پوچھا جائے گا: اس شخص ( محمد ) تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي کی نسبت تمہارا کیا اعتقادتھا؟ تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا۔كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا میں وہی کچھ کہتا تھا، جولوگ کہتے تھے۔تو اُس سے کہا جائے دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ گا: نہ تو خود سمجھا اور نہ تو نے (سمجھنے والے کی) پیروی کی اور مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً فَيَصِيْحُ صَيْحَةً اس پر لوہے کے گرزوں کی مار پڑے گی اور وہ زور سے چلائے يَسْمَعُهَا مَنْ يَّلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ گا۔جو بھی اس کے آس پاس ہوں گے سوائے آدمیوں اور اطرافه ۱۳۳۸ جنوں کے سب سنیں گے۔