صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 751
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۱ ٢٣ - كتاب الجنائز عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ (انہوں نے کہا : ) میں نے اشعث سے سنا۔انہوں نے عَنْهَا أَنَّ يَهُوْدِيَةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا اپنے باپ سے، ان کے باپ نے مسروق سے مسروق فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ یہودی عورت ان کے پاس آئی اور اس نے قبر کے عذاب عَائِشَةُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کا ذکر کیا اور ان سے کہا: اللہ تجھے عذاب قبر سے بچائے وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ رکھے۔حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عَذَابُ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عذاب قبر کی نسبت پوچھا تو آپ نے فرمایا: ہاں عذاب قبر (ضرور) ہوگا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : اس عَنْهَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ صَلَّى صَلَاةٌ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ زَادَ غُنْدَرٌ عَذَابٌ دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز پڑھی ہو اور (اس میں ) عذاب الْقَبْرِ حَقٌّ قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔غندر نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا: عذاب قبر حق ہے۔حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ۱۳۷۳: يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا :) حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ( عبدالله ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: یونس نے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عروہ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو بکڑ کی بیٹی اللهُ عَنْهُمَا تَقُوْلُ قَامَ رَسُوْلُ اللهِ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے سنا۔کہتی تھیں : رسول اللہ رضي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَذَكَرَ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور آپ نے فِتْنَةَ الْقَبْرِ الَّتِي يَفْتَتِنُ فِيْهَا الْمَرْءُ فَلَمَّا قبر کے اس امتحان کا ذکر کیا، جس میں آدمی پر کھا جاتا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُوْنَ ضَجَّةً ہے۔جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے گھبرا کر (آہ و بکا سے ) شور بپا کر دیا۔اطرافه ،٨٦ ۱۸٤، ۹۲۲، ۱۰۵۳، ۱۰٥٤، ۱۰٦۱، ۱۲۳۵، ۲۵۱۹، ۲۰۲۰، ۷۲۸۷