صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 748 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 748

٢٣ - كتاب الجنائز حيح البخاری جلد ۲ أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ ان کا اپنا اجتہاد ہے۔جس کے لئے انہوں نے ارشاد نبوی سے استدلال کیا ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اَنْتُمْ شُهَدَاءُ لِلَّهِ فِی الْاَرْضِ فرما کر ایک جماعت کی شہادت معتبر قرار دی ہے۔حضرت عمر نے تعداد کی تخصیص میں اصول عدل مد نظر رکھا ہے۔جس سے امام بخاری مذکورہ بالا نوعیت کی شہادت میں متفق۔نہیں معلوم ہوتے۔حضرت انس صحابی ہیں اور ابوالاسود تا بعی۔اس لئے ایک صحابی کی روایت زیادہ معتبر ہے۔امام احمد بن حنبل، ابن حبان اور حاکم نے حماد بن سلمہ کی سند سے حضرت انس کی ایک روایت مرفوعا نقل کی ہے۔جس کے یہ الفاظ ہیں: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ اَرْبَعَةٌ اَهْلُ أَبْيَاتٍ مِّنْ حِيْرَانِهِ الْادْنِينَ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ مِنْهُ إِلَّا قَالَ اللهُ تَعَالَى قَدْ قَبلْتُ قَوْلَكُمْ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب الجنائز، باب المغفرة بشهادة (الجيران (مسند احمد بن حنبل، جزء ۳ صفحه ۲۴۲) (صحیح ابن حبان كتاب الجنائز، فصل فى الموت، ذكر مغفرة الله جل وعلا ذنوب من شهد له جيرانه بالخير امام بخاری کے نزدیک یہ روایت مستند نہیں اور جو روایت ثابت ہے وہ حضرت عمر کا قول ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ایک قومی محرک ہے، انسان کے لئے کہ وہ اپنے تعلقات لوگوں کے ساتھ اچھے رکھے۔سورہ بلد میں تیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی ہدایت فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ امَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ أُولَئِكَ اَصْحَبُ الْمَيْمَنَةِ (البلد : ۱۹،۱۸) { پھر وہ اُن میں سے ہو جائے جو ایمان لے آئے اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور رحم پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کرتے ہیں۔یہی ہیں دائیں طرف والے } یعنی خلق خدا کے ساتھ نیک سلوک کرنا روحانیت میں پہلا زینہ ہے۔جس کے بعد ایمان نتیجہ خیز ہوتا ہے اور انسان اپنی روحانی سیر شروع کرتا ہے۔بَابِ ٨٦: مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ عذاب قبر کے متعلق جو کچھ آیا ہے وَقَوْلُهُ تَعَالَى إِذِ الظَّالِمُوْنَ فِي اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی ظالم موت کے بھنوروں غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو میں ہوں گے اور ملائکہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوْا أَنْفُسَكُمْ الْيَوْمَ ہوئے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو۔آج تمہیں تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ (الأنعام: ٩٤) رسوائی کے عذاب کی سزادی جائے گی۔{قَالَ أَبُو عَبْدُ اللَّهِ الْهُوْنُ } هُوَ الْهَوَانُ ابو عبد الله بخاری نے کہا: الْهُون } هَوَانُ کے معنوں وَالْهَوْنُ الرّفْقُ وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: میں ہے، یعنی ذلت اور رسوائی۔اور ھون کے معنے ا الفاظ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْهُونُ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفہ ۲۹۴)