صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 747
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۴۷ ٢٣ - كتاب الجنائز جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس جنازے والے کی عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ اچھی تعریف کی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا واجب ہوگئی۔ ایک اور جنازہ گذرا اس کی بھی اچھی فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَبَتْ ثُمَّ تعریف کی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا واجب ہوگئی۔ ایک تیسرا جنازہ گزرا۔ اس کی مذمت فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ فَقُلْتُ ہوئی ۔ ( حضرت عمر ) نے کہا: واجب ہوگئی ۔ ابوالاسود وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ کہتے تھے: میں نے کہا: یا امیر المومنین! کیا چیز واجب قُلْتُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہوگئی؟ کہنے لگے: میں نے وہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا۔ جس مسلمان کی بھی چار مسلمان وَسَلَّمَ أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ فَقُلْنَا وَثَلَاثَةٌ قَالَ اچھی شہادت دے دیں ۔ الـ ۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں وَثَلَاثَةٌ فَقُلْنَا وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ ثُمَّ لَمْ داخل کرے گا۔ ہم نے کہا: اگر تین گواہی دیں ؟ آپ نے فرمایا: تین بھی ۔ ہم نے کہا: اگر دو گواہی دیں؟ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ اطرافه: ٢٦٤٣۔ آپ نے فرمایا: دو بھی ۔ پھر ہم نے آپ سے ایک کی شہادت کے بارے میں نہیں پوچھا۔ تشريح : ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَى الْمَيِّتِ : زندہ آدم کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے منع کیا گیاہے مگر میت کی خوبیاں بیان کرنا پسندیدہ امر ہے۔ سوائے اس کے کہ تعریف خلاف واقعہ ہو۔ اگر نیک لوگ بالاتفاق فوت ہونے والے کی تعریف کریں تو غالب قیاس یہی ہے کہ ایسا شخص اللہ تعالی کی رحمت کا مستحق ہوگا اور اگر ان کی رائے اچھی نہ ہو تو اس کے بارہ میں غالب قیاس یہ ہے کہ وہ رحمت الہی کا مستحق نہ ہوگا ۔ اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ سے مراد صحابہ کرام اور ان جیسے متقی انسان ہیں؛ نہ کہ ہر کس و ناکس ۔ ورنہ خبیث الطبع لوگ تو اپنے جیسوں ہی کی تعریف کیا کرتے ہیں۔ امام بخاری نے ؛ باوجود یکہ روایت نمبر ۱۳۶۸ میں دو شخصوں کی شہادت قابل اعتبار قرار دی گئی ہے؛ عنوان باب میں ثناءُ النَّاسِ کے الفاظ اختیار کئے ہیں۔ جس سے غالباً یہ بتانا مقصود ہے کہ اس امر میں وہی شہادت قابل اعتبار ہوگی جو عمومیت کے ساتھ ہو۔ قُلْتُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ عل الله کا قول ؛ روایت نمبر ۱۳۶۷ میں مروی ہے اور حضرت عمر کا قول