صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 746 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 746

صحيح البخاری جلد ۲ بَاب ٨٥ : ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَى الْمَيِّتِ لوگوں کا میت کی تعریف کرنا ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣٦٧ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۳۶۷: آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبِ قَالَ (کہا :) شعبہ نے ہمیں بتایا۔(کہا:) عبدالعزیز بن سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صہیب نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن يَقُوْلُ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: لوگ ایک فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جنازے کے پاس سے گذرے اور انہوں نے اس کی اچھی وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُوْا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی۔شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ پھر ایک اور جنازے کے پاس سے گذرے۔انہوں نے اللهُ عَنْهُ مَا وَجَبَتْ اس کی مذمت کی۔(نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: الْخَطَّابِ رَضِيَ قَالَ هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ واجب ہوگئی۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: الْجَنَّةُ وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ کیا چیز واجب ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا: جس کی تم نے اچھی لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ تعریف کی، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم اطرافه: ٢٦٤٢۔: نے مذمت کی ہے، اس کے لئے آگ واجب ہو گئی۔تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔١٣٦٨ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ :۱۳۶۸ عفان بن مسلم (جو صفار ہیں) نے ہم سے حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ بیان کیا ، ( کہا:) داؤد بن ابی فرات نے ہمیں بتایا۔عَبْدِ اللَّهِ بْن بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے، عبداللہ نے قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا ابوالاسود سے روایت کی ، انہوں نے کہا: میں مدینہ مَرَضٌ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ میں آیا اور وہاں بیماری پھیلی ہوئی تھی۔میں حضرت الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِمْ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔ان کے