صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 745 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 745

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۴۵ ٢٣ - كتاب الجنائز فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ ایسی حالت میں مر گئے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَاللَّهُ کہ وہ بد عہد تھے۔(حضرت عمر) کہتے تھے: اس کے بعد میں نے اپنی جسارت پر تعجب کیا جو میں نے اس دن وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ اطرافه: ٤٦٧١۔تشریح: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دکھائی تھی اور اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنفِقِينَ وَالْإِسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِيْنَ: مشرکین کی نماز جنازہ نہ پڑھنے سے متعلق فقہاء کے درمیان اتفاق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بالصراحت منع فرمایا ہے۔(التوبہ: ۸۴) جیسا کہ سابقہ باب میں بتایا جا چکا ہے کہ نماز جنازہ ایک اجتماعی حق ہے جو شریعت اسلامی نے دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے کو دیا ہے۔مشرک کے لئے نماز جنازہ پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس وجہ سے عنوان باب میں اس کے لئے لفظ استغفار رکھا گیا ہے اور یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ آیا اس کے لئے دعائے مغفرت بھی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اس کے لئے تشریح باب ۷۹ بھی دیکھئے۔منافق گو دائرہ اسلام سے خارج نہ ہومگر چونکہ اس کا وجود معاشرہ کے لئے خطرناک ہے کہ وہ بظاہر فر د جماعت بن کر اس کے اندر رہتا ہے اور نہ صرف دوسرے افراد کو اپنے فساد سے متاثر کرتا بلکہ غیروں کے ساتھ مل کر ریشہ دوانیاں بھی کرتا ہے۔اس لئے وہ قطعی طور پر اس حق سے محروم کیا گیا ہے۔دیکھئے فتاوی احمد یہ صفحہ ۱۱۸۔کافر اپنے کھلے کھلے کفر کی وجہ سے معاشرہ سے الگ تھلگ ہے۔اس کا وجود اتنا نقصان دہ نہیں جتنا کہ منافق کا۔اس لئے شریعت اسلامی نے بھی دونوں کے درمیان فرق ملحوظ رکھا ہے۔یعنی منافق کے لئے دعائے رحمت بھی نہیں کی جاسکتی۔عنوان باب میں مشرکین کا جو لفظ وارد ہوا ہے اس سے مراد بت پرست قوم ہے۔یہاں لفظ مشرکین اپنے وسیع معنوں کے لحاظ سے مراد نہیں۔یہاں یہ بات یادر ہے کہ اس بات کا فیصلہ کہ فلاں منافق ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ اجتماعی مقاطعہ ہونا چاہیے، ایک نبی یا امام وقت سے تعلق رکھتا ہے۔ہر فرد کا حق نہیں کہ وہ کسی کے منافق ہونے کا فیصلہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ آیت وَلَا تُصَلِّ عَلى اَحَدٍ مِّنْهُمْ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں اور روایت نمبر ۱۳۶۶ میں حضرت عمر نے بھی اپنی غلط فہمی کا اقرار کرتے ہوئے کہا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔