صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 59
حيح البخاری جلد ۲ ۵۹ ١٠ - كتاب الأذان نیکیاں جمع ہو جاتی ہیں۔مثلاً مسجدوں سے انہی لوگوں کے دل وابستہ ہوں گے جن کے دلوں میں محبت الہی کی سچی تڑپ ہو اور جو اللہ کی یاد کے لئے بے قرار رہیں ، نہ وہ جو مسجدوں میں بیٹھ کر بھی ذکر الہی سے غافل، دنیا کی زق زق بک بک میں رہتے ہیں۔مسجدوں سے دل بستگی اور ملائکۃ اللہ کے استغفار کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ نیکیوں کی توفیق ملتی اور بدیوں سے نفرت ہوتی ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الزکوة - روایت نمبر ۱۴۲۴ زیر باب ۱۶۔بَاب ۳۷ : فَضْلُ مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَنْ رَّاحَ اس شخص کی فضیلت جو مسجد میں صبح و شام جائے ٦٦٢ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ :۶۶۲ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا: حَدَّثَنَا يَزِيْدُ بْنُ هَارُوْنَ قَالَ أَخْبَرَنَا یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا ، کہا: محمد بن مطرف نے مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ہمیں خبر دی۔انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ عطاء بن سہار سے، عطاء نے حضرت ابو ہریرہ سے، النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللهُ لَهُ کی کہ آپ نے فرمایا: جو مسجد کو صبح شام جاتا ہے، نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں اپنی مہمان نوازی کا سامان تیار کرتا ہے۔تشریح: مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَنْ رَّاحَ : عَدُوٌّ : صبح کے وقت جانا۔روح": زوال کے بعد جانا، جس کو تر جمہ میں شام کے وقت جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ان دو لفظوں سے مطلق مسجد میں آنا جانا بھی مراد لیا جاتا ہے اور یہاں بھی مطلق آنا جانا ہی مراد ہے۔جیسا کہ حدیث نمبر ۶۶۲ کے آخری الفاظ دلالت کرتے ہیں۔قرآن مجید میں اسی حدیث کا مضمون كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ ان واضح الفاظ میں بیان ہوا ہے: إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِايْتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَ سَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ، تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ، فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَه أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوْنَ ٥ أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحتِ فَلَهُمْ جَنْتُ الْمَأْوَى نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) (السجدة: ۶ تا ۲۰) { یقیناً ہماری آیات پروہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان ( آیات) کے ذریعہ انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ان کے پہلو بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں ز b