صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 743
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۴۳ ٢٣ - كتاب الجنائز حضرت ابو ہریرہ کی روایت نمبر ۱۳۶۵ جو امام مسلم نے بھی نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: فَهُوَ۔۔۔فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخْلَدًا فِيهَا أَبَدًا (مسلم، كتاب الايمان، باب غلظ تحريم قتل الانسان نفسه) یعنی اسے جہنم کی ابدی سزا ملے گی۔معتزلہ وغیرہ دائگی سزا سے متعلق اپنے عقیدہ کی تائید میں یہی روایت پیش کرتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۲۸۹) مگر امام موصوف کی تحقیق کی رو سے اس روایت میں یہ الفاظ نہیں۔اصحاب السنن نے حضرت جابر بن سمرہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے خود کشی کی تھی تو آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔(ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فيمن قتل نفسه لم يصل عليه) (ابن ماجه، کتاب ماجاء في الجنائز، باب في الصلاة على اهل القبلة) نسائی کے یہ الفاظ ہیں : اَمَّا أَنَا فَلا أُصَلِّي عَلَيْهِ (نسائی، کتاب الجنائز، باب ترک الصلاة علی من قتل نفسه، یعنی میں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔اس سے آپ نے دوسروں کو منع نہیں فرمایا۔روایت مذکورہ کی بناء پر فقہاء کے دو فریق ہیں۔ایک نے یہ روایت صحیح قرار دے کر نماز جنازہ نہ پڑھنے کا فتویٰ دیا ہے۔چنانچہ امام مالک نے امام وقت کے لئے ایسے قاتل کا نماز جنازہ پڑھنا مکروہ قرار دیا ہے جو بطور سزا قتل کیا جائے۔ان کے نزدیک قاتل نفس کی تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۲۸۸-۲۸۹) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کی نماز جنازہ خود نہیں پڑھی اور نہ لوگوں کو منع فرمایا۔(ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب الصلاة على من قتلته الحدود) دوسرے فریق نے حضرت جابر بن سمرہ کی روایت صحیح نہیں کبھی اور قاتل کی نماز جنازہ پڑھنے کا فتویٰ دیا ہے۔خواہ وہ عنداللہ اہل النار ہی کیوں نہ ہو۔اس ضمن میں جومستند روایتیں زیر باب نقل کی گئی ہیں۔ان سے خود کشی کرنے والے کا جہنمی ہونا ثابت ہے۔اس لئے بعض فقہاء کے نزدیک اس کی نماز جنازہ پڑھنا قطعی حرام ہے مگر خلود کا لفظ دوام پر دلالت نہیں کرتا۔جیسا کہ علماء نے اس لفظ کی تشریح بایں الفاظ کی ہے: اَلْمُرَادُ بِالْخُلُودِ طُولُ الْمُدَّةِ لَا حَقِيقَةُ الدَّوَامِ۔(فتح البارى جزء ۳۰ صفحہ ۲۸۹) یعنی اس سے لمبا عرصہ مراد ہے اور حُرِّمَتْ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ سے بھی مراد عارضی محرومی لی گئی ہے۔علاوہ ازیں صحیح روایات سے ثابت ہے کہ اہل نار کو دوزخ سے آخر نجات ہوگی۔(کتاب الاذان، باب ۱۲۹، روایت نمبر ۸۰۶) امام بخاری نے عنوانِ باب میں الفاظ قَاتِلُ نَفْسِه کی جگہ قَاتِلُ النَّفْسِ رکھ کر مطلق قاتل مراد لیا ہے۔خواہ اپنی جان کا قاتل ہو یا غیر کا؛ دونوں کی ایک ہی حیثیت ہے۔باب ٨٤ مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِيْنَ وَالاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِيْنَ منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنا اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کرنا مکروہ ہے رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ حضرت (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کی ہے۔