صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 742 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 742

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۴۲ ٢٣ - كتاب الجنائز مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ دین کی جانتے بوجھتے ہوئے قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہوگا بِحَدِيْدَةٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ جیسا اس نے کہا اور جو اپنے آپ کو ہتھیار سے مار ڈالے اسے جہنم کی آگ میں اسی ہتھیار سے سزادی جائے گی۔اطرافه: ٤١۷۱، ٤٨٤٣، ٦٠٤٧، 6105، ٦٦٥٢۔١٣٦٤ : وَقَالَ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۱۳۶۴: اور حجاج بن منہال نے کہا: جبریر بن حازم حَدَّثَنَا جَرِيْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْحَسَنِ نے ہمیں بتایا۔حسن سے مروی ہے کہ ( انہوں نے حَدَّثَنَا جُنْدَبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا کہا : ( حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے اسی مسجد ( بصرہ) الْمَسْجِدِ فَمَا نَسِيْنَا وَمَا نَخَافُ أَنْ میں ہم سے بیان کیا اور ہم یہ نہیں بھولے اور نہ ہمیں يَكْذِبَ جُنْدَبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله اندیشہ ہے کہ حضرت جندب نبی ﷺ کی نسبت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ بِرَجُلٍ جِرَاحٌ جھوٹ بولیں گے۔آپ نے فرمایا: ایک شخص کو زخم فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ اللهُ بَدَرَنِي عَبْدِي ہوا تو اس نے اپنے آپ کو مار ڈالا۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے اپنی جان سے متعلق مجھ سے جلدی کی ہے۔میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ اطرافه: ٣٤٦٣۔١٣٦٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۱۳۶۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) ہم سے شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ شعیب نے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ابوز ناد نے ہمیں بتایا۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے يَخْلُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ وَالَّذِي فرمایا: جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا ہے۔وہ آگ میں بھی اپنا گلا گھونٹے گا۔جو اپنے آپ کو زخمی کر کے مارتا ہے وہ يَطْعُنُهَا يَطْعُنُهَا فِي النَّارِ اطرافه: ۵۷۷۸ آگ میں بھی اپنے آپ کو زخمی کر کے مارتا رہے گا۔تشریح : مَا جَاءَ فِى قَاتِلِ النَّفْسِ : باب کا عنوان اسم موصول ما “ سے قائم کر کے ان روایتوں کی چھان بین کی ہے جو قاتل نفس کی سزا یا اس کے جنازہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔مثلاً