صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 741
صحيح البخاری جلد ۲ M ٢٣ - كتاب الجنائز { اور بگل میں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑنے لگیں گے۔وہ کہیں گے اے وائے ہماری ہلاکت ! کس نے ہمیں ہماری آرام گاہ سے اٹھایا۔یہی تو ہے جس کا رحمان نے وعدہ کیا تھا اور مرسلین سچ ہی کہتے تھے۔} ان آیات کا تعلق قبروں، حیاۃ اخرویہ اور اعمال کی جزا وسزا کے ساتھ ہے۔اس ضمن میں روایت نمبر ۱۳۶۲ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے قبرستان میں صحابہ کرام کو انسان کے انجام کی طرف توجہ دلائی ہے۔نیز قضاء وقدر کا مسئلہ نہایت عمدگی سے واضح فرمایا ہے کہ جس طرح یہ تقدیر ہے کہ بد بخت جہنم میں جائے گا۔اسی طرح یہ بھی تقدیر ہے کہ اس کی بدبختی کا سبب اس کی بد عملی ہے۔گویا بد عملی کی بدبختی جہنم کا موجب ہے۔قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً : قضاء وقدر کیا ہے۔ایک سلسلہ علت و معلول ہے۔جس کے دائرہ اثر سے کوئی وجود باہر نہیں۔مَا مِنْ نَّفْسٍ مَّنْفُوسَةٍ إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَإِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً یہ نوشتہ شقاء وسعادت بھی اسی سلسلہ علت و معلول کے تحت روز اول سے ہر ایک انسان کے لئے ثبت ہو چکا ہے اور علم الہی احاطہ کر چکا ہے کہ فلاں اس کے احکام کی خلاف ورزی کر کے بد بخت ہوگا اور فلاں اطاعت کی وجہ سے نیک بخت۔اس بارہ میں صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، انسان کو نہیں۔اس لئے اس کا اپنے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ چونکہ وہ بد بخت از لی اور جہنمی ہے، اسے بدعملی سے باز نہیں آنا چاہیے۔اس کی یہ منطق درست نہیں۔اگر بالفرض اس کا یہ قیاس اپنے متعلق صحیح بھی ہو تو اس کو تو بہ کر کے نیک عمل بجالانے چاہئیں، نہ کہ اپنی بد عملی پر اصرار آیت فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى هِ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى ( الليل: ۶ تا ۱۱) پس وہ جس نے ( راہ حق میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔اور بہترین نیکی کی تصدیق کی تو ہم اُسے ضرور کشادگی عطا کریں گے اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور بہترین نیکی کی تکذیب کی تو ہم اُسے ضرور تنگی میں ڈال دیں گے۔) میں عمل کے انہی طبعی نتائج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور یہ ایک ایسا قانون ہے جس کے ذریعے سے ہر قسم کی تقدیر انجام پاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے والے حضرت عمر ہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۲۸۸) اور آپ نے اسی آیت کا حوالہ دے کر ان کو ایک اہم نکتہ معرفت سمجھایا ہے۔باب ۸۳: مَا جَاءَ فِي قَاتِلَ النَّفْسِ قاتل نفس کے متعلق جو کچھ آیا ہے ١٣٦٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ۱۳۶۳: مدد نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) یزید بن حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ زریع نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا: ) خالد (حذاء) نے زريع عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَاكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے، حضرت ثابت نے نبی کے مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اسلام کے سوا اور کسی