صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 738 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 738

صحيح البخاری جلد ۲ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ۷۳۸ ٢٣ - كتاب الجنائز فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ شاخیں سوکھیں ان سے ( عذاب میں ) تخفیف کی جائے ۔ اطرافه: ۲١٦، ۲۱۸، ۱۳۷۸، ٦٠٥٢، 6055۔ الوعاء تشريح : الْجَرِيدُ عَلَى القَبْرِ : حضرت برید بن اسلم نے نبی صل اللہ علیہ سلم کے مذکورہ فلک عام معنوں میں سمجھتے ہوئے مرنے سے پہلے وصیت کی کہ ان کی لے وصیت کی کہ ان کی قبر پر بھی کھجور کی شاخیں گاڑی جائیں۔ اس خیال سے کہ شاید اللہ تعالیٰ ان پر بھی رحم فرمائے ۔ امام بخاری کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فعل خاص تھا۔ اسی وجہ سے عنوان باب میں الفاظ الْجَرِيدَةُ عَلَى الْقَبْرِ اختیار کر کے اس کی خبر حذف کر دی ہے اور اپنی اس رائے کی تائید میں حضرت ابن عمر کا قول فَإِنَّمَا يُظِلُّهُ عَمَلُهُ پیش کیا ہے جو ابن سعد نے بحوالہ ایوب بن عبد اللہ بن یسار نقل کیا ہے۔ ذی طوی مقام میں حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر دفن کئے گئے اور حضرت عائشہ نے ایک بڑا خیمہ وہاں ان کی قبر پر نصب کروایا اور ایک شخص وہاں چھوڑ کر چلی گئیں۔ جسے حضرت ابن عمر نے اکھاڑنے کے لئے کہا۔ اس شخص نے معذرت کی کہ اس کی آقا اس کو سزا دیں گی تو انہوں نے کہا نہیں، سزا نہیں دیں گی۔ جس پر اس نے وہ خیمہ اُٹھا لیا۔ (فتح الباری جزء ۳ صفحه ۲۸۴) خارجہ بن زید بن ثابت انصاری ثقہ تابعی ہیں اور اہل مدینہ کے سات مشہور فقہاء میں سے شمار کئے جاتے تھے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۲۸۴) مذکورہ بالا حوالوں سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ قبروں کی ظاہری تعظیم میت کو بڑا نہیں بنا سکتی اور نہ ان کی تحقیر اس کی ذلت کا باعث ہو سکتی ہے۔ امام موصوف نے افراط و تفریط کے چند حوالہ جات عنوانِ باب میں نقل کر کے اس کے ذیل میں جو حدیث درج کی ہے، اس سے یہ سمجھایا ہے کہ قبرستان عبرت اور خشیت الہی کی جگہ ہے۔ چنانچہ اس مقصد کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے اس کے مناسب حال باب ۸۲ قائم کیا ہے جس میں قرآن مجید کی تین آیتوں کا حوالہ دیا ہے جن کا اس مضمون کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ خارجہ نے عثمان بن حکیم کو حضرت ابوہریرہ کا یہ مشہور قول یاد دلایا : لأن أجلِسَ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ مَا دُونَ لَحْمِي حَتَّى تَفْضِي إِلَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ ۔۔۔۔۔ إِنَّمَا كَرِهَ ذَلِكَ لِمَنْ أَحْدَثَ عَلَيْهِ۔ یعنی حضرت ابو ہریرہ کو قبروں پر بیٹھنا سخت نا پسند تھا۔ ایسا اس لیے تھا کہ لوگ وہاں بدعتیں اور بے ہودہ باتیں کرتے ہیں، بلکہ بعض قضائے حاجت سے بھی نہیں شرماتے تھے۔ لفظ اَحدَث کے دونوں معنی ہیں ۔ آجکل بھی یہی نظارہ دیکھنے میں آتا ہے، بلکہ قبرستان میں جا کر لوگ تاش، شطرنج، گنجفہ اور چوسر وغیرہ تک کھیلتے دیکھے گئے ہیں جو غایت درجہ شقاوت قلبی کی علامت ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے تشریح باب ۳۱۔ نیز مذکورہ بالا حوالہ جات کی تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء۳ صفحه ۲۸۳ ، ۲۸۴ - عمدۃ القاری جزء ۸ صفحه ۱۸۳-۱۸۴