صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 737 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 737

صحيح البخاری جلد ۲ أَخَذَ ٢٣ - كتاب الجنائز وَقَالَ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ رَأَيْتُنِي وَنَحْنُ اور خارجہ بن زید کہتے تھے: مجھے اپنا وہ وقت یاد ہے کہ جب شُبَّانٌ فِي زَمَن عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جوان تھے اور وَإِنَّ أَشَدَّنَا وَثْبَةً الَّذِي يَثبُ قَبْرَ عُثْمَانَ ہم میں سے کلانچ لگانے میں وہی شخص زیادہ مضبوط سمجھا بْنِ مَطْعُوْنٍ حَتَّى يُجَاوِزَهُ وَقَالَ عُثْمَانُ جاتا تھا جو حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کو کلانچ لگا کر پار حَكِيمٍ بِيَدِي خَارِجَةُ ہو جاتا اور عثمان بن حکیم نے کہا: خارجہ بن زید ) نے میرا فَأَجْلَسَنِي عَلَى قَبْرٍ وَأَخْبَرَنِي عَنْ عَمِهِ ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک قبر پر بٹھایا اور اپنے چچا حضرت یزید يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ إِنَّمَا كُرَهَ ذَلِكَ لِمَنْ بن ثابت سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں أَحْدَثَ عَلَيْهِ وَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ نے کہا: قبر پر بیٹھنا اس شخص کے لئے ناپسندیدہ ہے جو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَجْلِسُ عَلَى الْقَبُورِ وہاں بے ہودگی کرے۔اور نافع نے کہا: حضرت (عبداللہ ) ابن عمر رضی اللہ عنہما قبروں پر بیٹھا کرتے تھے۔أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنَ يُعَذِّبَانِ فَقَالَ إِنَّهُمَا ١٣٦١: حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ۱۳۶۱: يحي بن جعفر بیکندی) نے ہم سے بیان کیا، أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُّجَاهِدٍ (کہا: ( ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ اُمس نے مجاہد سے، مجاہد نے طاؤس سے، طاؤس نے عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گذرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔آپ نے فرمایا: لَيُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي كَبِيرِ أَمَّا انہیں تو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ عَذاب نہیں دیا جا رہا۔ان میں سے ایک جو ہے تو وہ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيْمَةِ ثُمَّ پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور جو دوسرا ہے وہ چغلی أَخَذَ جَرِيْدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ ثُمَّ کھاتا تھا۔پھر آپ نے کھجور کی تازہ شاخ لی اور چیر کر غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرِ وَاحِدَةً فَقَالُوْا يَا دوٹکڑے کئے۔پھر ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔لوگوں رَسُوْلَ اللهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا فَقَالَ لَعَلَّهُ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیوں کیا؟ آپ نے