صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 737
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۳۷ ٢٣ - كتاب الجنائز وَقَالَ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ رَأَيْتُنِي وَنَحْنُ اور خارجہ بن زید کہتے تھے: مجھے اپناوہ وقت یاد ہے کہ جب شُبَّانٌ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جوان تھے اور وَإِنَّ أَشَدَّنَا وَثْبَةَ الَّذِي يَجِبُ قَبْرَ عُثْمَانَ ہم میں سے کلانچ لگانے میں وہی شخص زیادہ مضبوط سمجھا بْنِ مَظْعُوْنٍ حَتَّى يُجَاوِزَهُ وَقَالَ عُثْمَانُ جاتا تھا جو حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کو کلا سچ لگا کر پار بْنَ حَكِيمٍ أَخَذَ بِيَدِي خَارِجَةُ ہو جاتا اورعثمان بن حکیم نے کہا: خارجہ بن زید ) نے میرا فَأَجْلَسَنِي عَلَى قَبْرٍ وَأَخْبَرَنِي عَنْ عَمِّهِ ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک قبر پر بٹھایا اور اپنے چا حضرت یزید يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ إِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لِمَنْ بن ثابت سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں أَحْدَثَ عَلَيْهِ وَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ نےکہا: قبر پر بیٹھنا اس شخص کے لئے ناپسندیدہ ہے جو ابے ہودگی کرے۔ اور نافع نے کہا: حضرت (عبداللہ ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَجْلِسُ عَلَى الْقُبُورِ وہاں بے ہود ابن عمر رضی اللہ عنہما قبروں پر بیٹھا کرتے تھے۔ ١٣٦١ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ١٣٦١ : يحي ( بن جعفر بیکندی) نے ہم سے بیان کیا، أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ ( کہا:) ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله اعمش نے مجاہد سے، مجاہد۔ سے ، مجاہد نے طاؤس سے، طاؤس نے ے روایت کی کہ انہوں عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذِّبَانِ فَقَالَ إِنَّهُمَا گزرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: لَيُعَذِّبَانِ وَمَا يُعَذِّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا انہیں تو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ان میں سے ایک جو ہے تو وہ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ پیشاب سے بچاؤ نہیں کرتا تھا اور جو دوسرا ۔ و دوسرا ہے وہ چغلی أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ ثُمَّ کھاتا تھا۔ پھر آپ نے کھجور کی تازہ شاخ لی اور چیر کر غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوْا يَا دوٹکڑے کئے ۔ پھر ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ لوگوں رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا فَقَالَ لَعَلَّهُ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیوں کیا ؟ آپ نے