صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 736 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 736

صحيح البخاری جلد ۲ = ٢٣ - كتاب الجنائز کرلی ہے۔اور نہ ان لوگوں کے لئے ہے جو کفر (ہی) کی حالت میں مرجاتے ہیں۔یہ لوگ ایسے ہیں کہ ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔موت کے وقت عقیدہ کی تبدیلی یا تو بہ ایک عارضی اثر کے تحت تو ہوسکتی ہے۔اگر موت واقع نہ ہو اور حالت صحت عود کر آئے تو ممکن ہے کہ ایسا تو بہ کرنے والا پھر بد عقیدہ یا بدعمل ہو جائے۔جیسا کہ قرآن مجید ایک دوسری جگہ فرماتا ہے: حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ۔لَعَلَّى أَعْمَلَ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔(المومنون : ۱۰۰-۱۰۱) اور اس وقت جب ان میں سے کسی کی موت آجائے گی وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے تا میں عمل صالح بجالاؤں جو میں نے چھوڑے ہیں۔ہر گز نہیں۔یہ صرف ایک منہ کی بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے اس وقت تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں۔روایت نمبر ۱۳۶۰ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ آپ اپنے چا ابوطالب کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہیں گے تا وقتیکہ آپ روک نہ دیئے جائیں۔یہ صرف انہی کی خصوصیت تھی۔اس دلیرانہ دفاع کی وجہ سے جو وہ ساری عمر آپ سے متعلق کرتے رہے۔بعض شارحین نے بھی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے اور ان کی رائے میں امام بخاری نے مذکورہ بالا احتمالات کے پیش نظر جملہ شرطیہ کا جواب حذف یا مقدر کر دیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۲۸۲) مذکورہ بالا روایت کے آخر میں جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنُ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوا أُولِى قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ (التوبة : ١١٣) نبی اور مومنوں کی شان کے خلاف تھا کہ مشرکوں کے لئے استغفار کرتے خواہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں۔بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہو گیا کہ وہ دوزخی ہیں۔اس آیت میں استغفار سے باتیں شرط منع کیا گیا ہے کہ مشرکین سے متعلق واضح طور پر یقینی علم ہو جائے کہ وہ جہنمی ہیں۔اس حوالہ سے یہ پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا ابوطالب سے متعلق یہ علم تھا کہ وہ ایسے نہیں۔بَابِ ۸۱: الْجَرِيْدَةُ عَلَى الْقَبْرِ قبر پر کھجور کی شاخ وَأَوْصَى بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ أَنْ يُجْعَلَ اور حضرت بریدہ اسلمی نے وصیت کی تھی کہ ان فِي قَبْرِهِ جَرِيْدَتَانِ وَرَأَى ابْنُ عُمَرَ کی قبر پر دو شاخیں رکھی جائیں اور حضرت ابن عمر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فُسْطَاطًا عَلَى قَبْر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبدالرحمن ( بن ابی بکر) کی عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ انْزِعْهُ يَا غُلَامُ قبر پر ایک بڑا خیمہ دیکھا تو انہوں نے کہا: لڑکے اس کو فَإِنَّمَا يُظِلُّهُ عَمَلُهُ اُکھیٹر ڈال۔اس پر تو اس کا عمل ہی سایہ کرے گا۔