صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 735 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 735

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۳۵ ٢٣ - كتاب الجنائز رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي آئے اور ان کے پاس ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ طَالِبٍ يَا عَمّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ كَلِمَةً بن ابی امیہ بن مغیرہ کو پایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللهِ فَقَالَ أَبُو جَهْل نے ابو طالب سے کہا: چا اقرار کریں کہ اللہ کے سوا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ کوئی معبود نہیں۔یہ ایسا اقرار ہوگا کہ میں اللہ تعالیٰ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ کے حضور آپ کے لئے اس کی شہادت دوں گا۔تو يَزَلْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابو طالب ! کیا يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيَعُوْدَانِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ تم عبد المطلب کے دین سے روگردانی کرو گے؟ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے یہی بات پیش کرتے رہے اور وہ دونوں وہی بات کہتے رہے۔هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ یہاں تک کہ ابو طالب نے آخری بات جو ان سے کی يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أَنْهَ عَنْكَ فَأَنْزَلَ و یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے ہی دین پر قائم رہیں گے اور انہوں نے لا الهَ إِلَّا اللہ کہنے سے انکار کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اللہ کی اللَّهُ تَعَالَى فِيْهِ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ الْآيَةَ قسم! میں آپ کے لئے استغفار کرتا رہوں گا یہاں (التوبة: ١١٣) تک کہ میں اس سے روک نہ دیا جاؤں۔چنانچہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی۔مَا كَانَ لِلنَّبِي۔۔۔اطرافه: ۳۸٨٤، ٤٦٧٥، ٤۷۷۲، ٥٦٥، ٦٦٨١۔تشریح : إِذَا قَالَ الْمُشْرِكْ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا اللَّهُ إِلَّا اللهُ : عنوان اب جملہ شرطی سے قائم کیا گیا ہے اور اس کا جواب محذوف رکھا ہے کیونکہ روایت نمبر ۱۳۶۰ سے یقینی طور پر استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ ہر مشرک کا ایمان بوقت موت قبول ہوگا یا نہیں۔فرعون نے ڈوبتے وقت آمَنتُ کہا تھا مگراللہ تعالیٰ بطور عام قاعدہ فرماتا ہے: وَلَيْسَتِ الثَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ( النساء:۱۹) اور توبہ کے قبول ہونے کا حق ) ان کے لئے نہیں جو بدیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت کی گھڑی آ جاتی ہے تو کہتا ہے کہ میں نے اب یقینا تو بہ