صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 734
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۳۴ ٢٣ - كتاب الجنائز فرض ہے اور ہمدردی کی بیبیوں اور صورتیں بھی ہوسکتی ہیں۔صرف ایک جنازہ ہی کی صورت تو نہیں۔پس یہ سمجھنا کہ دعائے جنازہ سے غیر مسلم کے بچوں کو جو فطرت پر ہیں، محروم رکھنا تنگدلی ہے صحیح نہیں بلکہ اجتماعی حقوق کی نگہداشت اور امتیازات ملحوظ رکھنے میں ہی معاشرہ کی سلامتی اور استواری کا راز مضمر ہے۔اس اصل کے پیش نظر نماز جنازہ میں مسلم اور غیر مسلم، مومن اور کافر کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ (الروم : ۳۱) یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہ قائم رکھنے اور قائم رہنے والا دین ہے۔یہ وہ اصل ہے جس کے تحت تمام قو میں اپنے فطرتی تقاضے سے کاربند ہیں۔یعنی ہر ایک نے اپنے اجتماعی حیز کو محفوظ اور ممتاز رکھنے کے لئے اپنے افراد کو بعض معین حقوق سے مخصوص کر دیا ہے۔جن میں غیروں کو شریک نہیں کرتیں۔البتہ شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ہدایات میں جہاں یہ اجتماعی اصل مدنظر رکھا ہے وہاں یہ احتیاط کی ہے کہ غیروں کے حقوق بھی ملحوظ رکھے ہیں اور اس تخصیص میں ان کو کسی قسم کا ضرر نہیں پہنچنے دیا۔نہ ان کے لئے مطلق دعا کرنے کا راستہ بند کیا ہے بلکہ اَلتَّحِيَّاتُ میں رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَی کی دعا سکھا کر والدین کے لئے سلسلہ دعا جاری رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ایک نو مسلم بھی اپنے والدین کے لئے یہی دعا کرتا ہے اور نماز کے آخر میں سلامتی کی دعا کو دائیں اور بائیں طرف بطور صلائے عام جاری فرمایا ہے۔(ملاحظہ ہو تشریح کتاب الاذان باب ۱۵۲) اگلے باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا اسوۂ حسنہ پیش کیا گیا ہے۔اس ضمن میں دیکھئے تشریح باب ۸۴ روایت نمبر ۱۳۶۶، جہاں مسلمانوں میں سے منافقین و مشرکین کے جنازہ کی کراہت کا ذکر ہے۔بَاب ۸۰: إِذَا قَالَ الْمُشْرِكُ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اگر مشرک مرتے وقت لا الہ الا اللہ کہے ١٣٦٠ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا :۱۳۶۰ اسحق بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي کہا: يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔انہوں نے صالح أَخْبَرَنِي سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيْهِ ( بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِب روایت کی کہ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ان کے باپ نے ان سے بیان کیا۔جب ابوطالب وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ قَالَ فوت ہونے لگے تو رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں