صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 733
صحيح البخاري۔ی جلد ۲ ۷۳۳ ٢٣ - كتاب الجنائز پڑھی جائے گی۔مفصل بحث کے لئے دیکھئے بداية المجتهد، كتاب احكام الميت، الباب الخامس في صلاة الجنازة، الفصل الثاني فيمن يصلى عليه ومن اولى بالتقديم اس بارہ میں ایک شاذ رائے یہ بھی ہے کہ بچوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔اس تعلق میں یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا غیر مسلم نابالغ بچے کا بھی جنازہ پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ امام مالک کے نزدیک یہ ممنوع ہے، خواہ وہ حربی کا لڑکا ہو یا جنگی قیدی کا ، سوائے اس کے کہ وہ خود اسلام کو سمجھتا ہو یا اس کا والد مسلمان ہو جائے۔امام شافعی کے نزدیک اس بارے میں والد کی کوئی تخصیص نہیں، بلکہ ماں باپ میں سے کوئی مسلمان ہو جائے تو بچے کا مذہب اس کے مذہب پر قیاس کیا جائے گا۔امام ابوحنیفہ نے بچوں کے جنازہ سے متعلق یہ فتویٰ دیا ہے کہ قید کرنے والے کے مذہب پر قیاس کیا جائے۔غرض اس مسئلہ میں یہاں تک تو سب کو اتفاق ہے کہ اگر بچہ اپنے اسیر والدین کے ساتھ ہے جو مسلمانوں کے مملوک نہیں اور نہ ان میں سے کوئی مسلمان ہوا ہے تو اس بچے کے مرجانے پر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔اس قسم کے اختلافات کے پیش نظر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے اور عنوان میں چند اقوال کا حوالہ بھی دیا ہے مثلاً الإِسْلامُ يَعْلُو وَلَا يُغلى۔یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے۔علامہ ابن حزم نے اپنی کتاب المحلی میں اس کا بایں الفاظ ذکر کیا ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا أَسْلَمَتِ الْيَهُودِيَّةُ أَوِ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْيَهُودِي أَوِ النَّصْرَانِي يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامُ يَعْلُو وَلَا يُعْلَى یعنی حضرت ابن عباس سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ یہودی یا عیسائی کی بیوی اسلام قبول کرلے تو خاوند بیوی کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا جائے گا۔اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۲۸) امام بخاری نے اس اختلاف کے تعلق میں جو روایتیں درج کی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ بچے کا اسلام قبول کرنا درست ہے۔مثلاً ابن صیاد اور حضرت ابن عباس کا بچپن میں اسلام قبول کرنا اصولاً بچوں کے دین کا ماں باپ میں سے کسی ایک کے دین پر قیاس کیا جائے گا، یعنی وہ والدین میں سے جس کسی کے زیر تربیت ہوں۔عام حالات میں یہی قیاس ہو سکتا ہے کہ بچے اس کے مذہبی خیالات سے اثر پذیر ہوں گے۔( روایت نمبر ۱۳۵۸، ۱۳۵۹) جنازہ کی دعا اپنی معین و مخصوص صورت میں ایک مسلمان کا اجتماعی حق ہے، بوجہ اس کے کہ وہ اسلامی جماعت کا فرد ہے اس لئے اس خاص اجتماعی حق میں غیر مسلم شریک نہیں کیا جائے گا؛ قطع نظر اس سے کہ چھوٹا ہو یا بڑا۔حقوق کی نوعیت اور ان کا دائرہ اثر جدا جدا ہے۔خاوند کا حق بیوی کے لئے اور بیوی کا حق خاوند کے لئے مخصوص ہے۔ماں کا حق بیوی کو اور بیوی کا حق ماں کو نہیں دیا جا سکتا۔وعلی ھذا القیاس بیٹوں اور بہن بھائیوں وغیرہ اقرباء میں سے ہر ایک کے حقوق کی نوعیت اور حیثیت جدا گانہ ہے۔ان مخصوص حقوق کو آپس میں خلط ملط کرنا درست نہیں بلکہ انہیں اپنی اپنی معین حدود کے اندر رکھنا ضروری ہے تا کہ معاشرے میں صورت اعتدال قائم رہے۔ہر فرد کو اپنا مخصوص حق ملنے ہی سے نظام معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔حدیث نمبر ۱۳۵۸ اسی بات کو ذہن نشین کرانے کے لئے لائی گئی ہے۔غیر مسلم کی نماز جنازہ نہ پڑھنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ جذبہ ہمدردی کے خلاف ہے۔اسلامی تعلیم کے پیش نظر ہر ملت و مذہب والے انسان کے ساتھ ہمدردی کرنا