صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 58
البخاری جلد ۲ ۵۸ ١٠ - كتاب الأذان فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبَيْصِ خَاتَمِهِ۔انتظار کیا ہے۔کہتے تھے (کہ یہ واقعہ مجھے ایسا یاد ہے کہ ) اطرافه ۵۷۲، ٨٤٧،٦۰۰، ٠٥٨٦٩ میں اب بھی آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔تشريح : مَنْ جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنتَظِرُ الصَّلوةَ : باب مذکور کی پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ کا استغفار اور دعائے رحمت خاص کر ان لوگوں کے لئے ہے جو مسجد میں نماز فریضہ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔جملہ يَنتَظِرُ الصَّلوۃ میں اَلصَّلوة سے مراد نماز فریضہ ہی ہے۔قرآن مجید کی آیت وَالْمَلِئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ (الشوری: ۲) اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ (اس کی تشبیح کر رہے ہوں اور وہ ان کے لیے جو زمین میں ہیں بخشش طلب کر رہے ہوں } سے ایک عام استغفار کا پتہ چلتا ہے۔جو تمام مخلوقات کے لئے ہے۔مگر یہاں وہ دعائے رحمت و مغفرت مراد ہے جو مسجد میں انتظار کرنے والوں کے لئے مخصوص ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب بداء الخلق باب : ذكر الملائكة) فَضْلُ الْمَسَاجِدِ : یہاں یہ یادر ہے کہ ذکر الہی کی کیفیات کے ساتھ ملائکۃ اللہ کا نزول یقینی ہے۔پس مسجدوں میں بیٹھ کر ہماری انتظار نماز با جماعت کی گھڑیاں بھی ذکر الہی میں صرف ہونی چاہیں ، نہ ادھر ادھر کی باتوں میں۔دوسرا امتیاز جو مسجدوں کو دوسری جگہوں پر حاصل ہے یہ ہے کہ ان میں نماز پڑھنے والے اس مصیبت کی گھڑی میں جبکہ کسی کی پناہ کام نہیں دے گی ، اللہ تعالیٰ کی خاص پناہ میں ہوں گے۔تیسرا امتیاز یہ ہے کہ مسجد میں نماز کا انتظار کرنے والا نہ صرف ملائکہ کی دعاؤں کا مستحق ہوتا ہے بلکہ اس کی یہ انتظار خود ایک عبادت ہو جاتی ہے۔یہ تین امتیاز ہیں جو مسجدوں کو دوسری جگہوں پر حاصل ہیں۔سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِله : متذکرہ بالا سات امور میں سے چھ وہ باتیں ہیں جواللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت اور اس سے پورا اخلاص رکھنے پر دلالت کرتی ہیں اور ان میں سے ایک وہ ہے جس کا تعلق ایک طرف خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اور دوسری طرف لوگوں کی رہنمائی اور ان کے حقوق کی نگرانی کے ساتھ یعنی امامت و عدل۔امام کے لفظی معنی پیش رو، رہنما اور بادشاہ کے ہیں۔سات کا عدد حصر کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔کیونکہ ان کے علاوہ اور بھی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سایہ میں ہوں گے۔جیسے اللہ تعلی کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے قرض خواہ جو اپنے تنگ دست مقروض کو مہلت دیتا ہے ، مکاتب یعنی غلام یا لونڈی کو مدددیگر آزاد کرنے والا ، دیانتدار سا تاجر اور اعلیٰ اخلاق رکھنے والا۔امام ابن حجر نے وہ تمام روایتیں اکٹھی کی ہیں جن میں ان باتوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے سایہ میں پناہ ملنے کا موجب ہوں گی۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۸۷) مذکورہ بالا حدیث میں جن سات باتوں کا ذکر ہے وہ اپنے اندر ایک ایسے جامع معانی رکھتی ہیں۔جن کے تحت تمام ↓ مسند احمد بن حنبل - مسند العشرة المبشرة - مسند عمر بن الخطاب - جزء اول صفحه ۵۳ مسلم - كتاب الزهد - باب حديث جابر الطويل وقصة ابي اليسر مسند احمد بن حنبل۔- مسند المكيين - حديث سهل بن حنیف - جزء سوم صفحہ ۴۸۷