صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 728
اری جلد ۲ ۷۲۸ ٢٣ - كتاب الجنائز الْمُسْلِم وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ بچہ مسلمان کے پاس رہے گا اور حضرت ابن عباس عَنْهُمَا مَعَ أُمِّهِ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ وَلَمْ رضی اللہ عنہا اپنی ماں کے ساتھ تھے ، جو ان لوگوں میں يَكُنْ مَعَ أَبِيْهِ عَلَى دِيْنِ قَوْمِهِ وَقَالَ سے تھیں جو کمزور سمجھے جاتے تھے اور وہ اپنے والد کے الْإِسْلَامُ يَعْلُو وَلَا يُعْلَى ساتھ اپنی قوم کے دین پر نہیں تھے اور آپ نے فرمایا: اسلام غالب رہتا ہے اور مغلوب نہیں ہوتا۔١٣٥٤ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ ۱۳۵۴ عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا : ) عبد اللہ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ یونس نے زہری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: سالم بن رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ عبد الله بن عمر ) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عنہما نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عمرؓ نبی صلی اللہ علیہ رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدُوْهُ وَسلم کی معیت میں کچھ لوگوں کے ساتھ ابن صیاد کی طرف يَلْعَبُ مَعَ الصَّبْيَانِ عِنْدَ أُطْم بَنِي مَغَالَةَ گئے تو اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادِ الْحُلُمَ فَلَمْ کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد بلوغت کے قریب يَشْعُرُ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تھا۔اسے معلوم نہ ہوا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے تھپکا اور اس کے بعد ابن صیاد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لِابْن صَيَّادٍ سے پوچھا: کیا تو شہادت دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول تَشْهَدُ أَنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ ہوں؟ اس پر ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا: صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں۔پھر الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى ابن صیاد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔تو آپ نے فَرَفَضَهُ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللهِ وَبِرُسُلِهِ اس کو چھوڑ دیا اور فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر فَقَالَ لَهُ مَاذَا تَرَى قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ ایمان رکھتا ہوں۔پھر آپ نے اس سے پوچھا تو کیا کچھ