صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 727
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۲۷ ٢٣ - كتاب الجنائز كَعْبِ بْنِ مَالِكِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابن شہاب نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبدالرحمن بن رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى كعب بن مالک سے، عبدالرحمن نے حضرت جابر بن اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنْ عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: قَتْلَى أُحُدٍ ثُمَّ يَقُوْلُ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخَذَا نبي صلى الله علیہ وسلم اُحد کے مقتولین میں سے دو دو لِلْقُرْآنِ فَإِذَا أُشِيْرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا آدمیوں کو اکٹھا کرتے اور پھر پوچھتے: ان میں سے قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ فَقَالَ أَنَا شَهِيدٌ عَلَى کس نے قرآن زیادہ یاد کیا تھا۔جب آپ کو ان میں هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ اس کو لحد میں پہلے رکھتے اور آپ نے فرمایا: قیامت کے دن بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُغَسِلْهُمْ میں ان کا شاہد ہوں اور ان کو ان کے خون سمیت ہی دفن کرنے کے لئے فرمایا اور انہیں نہلایا نہیں۔اطرافه ١٣٤٣، ١٣٤٥ - ١٣٤٦، ١٣٤٧، ١٣٤٨، ٤٠٧٩۔تشریح: اللحدُ وَالشَّقُ فِى الْقَبُرِ : اُحد کی جنگ میں ایک شہید لحد کے اندر اور دوسرا قبر کے گڑھے میں دفن کیا گیا تھا۔اسی واقعہ کی بناء پر عنوان باب قائم کیا گیا ہے اور ابوداؤد وغیرہ کی روایت کا رڈ مقصود ہے۔جس میں یہ الفاظ ہیں: اَللَّحُدُ لَنَا وَالشَّقُّ لَغَيْرِنَا۔(ابوداؤد ، کتاب الجنائز، باب فی اللحد) محمد ہمارے لئے ہے اور شگاف دوسروں کے لئے۔لحد اور صندوقی قبر دونوں میں دفن کرنا جائز ہے۔شق کا اردو ترجمہ شگاف کیا گیا ہے۔اس سے مراد قبر کی خالی جگہ ہے۔اگر لحد نہ ہو تو صندوق رکھا جاتا ہے۔بغیر لحد کے قبر کو پنجاب میں صندوقی اور کشمیر میں موسائی قبر کہتے ہیں۔کشمیر میں اس قبر کی شکل یہودیوں کی قدیم قبروں سے ملتی جلتی ہے۔بَاب ٧٩ : إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ اگر بچہ اسلام لائے اور وہ مر جائے تو کیا اس کے لئے نماز جنازہ پڑھی جائے؟ وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الْإِسْلَامُ اور کیا بچے کے سامنے اسلام پیش کیا جائے؟ اور حسن وَقَالَ الْحَسَنُ وَشُرَيْحٍ وَإِبْرَاهِيْمُ ) بصری) اور شریح اور ابراہیم نخعی ) اور قتادہ نے کہا: وَقَتَادَةُ إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا فَالْوَلَدُ مَعَ جب ماں باپ ) میں سے کوئی مسلمان ہو جائے تو