صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 726
اری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز فَإِذَا هُوَ كَيَوْمٍ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ ہی ہیں جیسے اُس دن تھے کہ جس دن میں نے ان کو رکھا تھا۔سوائے خفیف سے تغیر کے جو ان کے کان میں تھا۔اطرافه: ١٣٥٢۔١٣٥٢ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الله ۱۳۵۲: علی بن عبداللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، ابْنِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَن ) کہا : ( سعيد بن عامر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ أَبِي نَجِيْحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ سے شعبہ نے ابی نجیح کے بیٹے سے، انہوں نے عطاء اللهُ عَنْهُ قَالَ دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ (بن ابي رباح ) سے، عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے باپ کے ساتھ ایک آدمی دفنایا گیا۔میرے نفس کو چین نہ آیا، یہاں تک رَضِيَ فَجَعَلْتُهُ فِي قَبْرِ عَلَى حِدَةٍ اطرافه: ١٣٥١۔کہ میں نے ان کو نکالا اور ان کو ایک الگ قبر میں رکھا۔تشریح : هَلْ يُخْرَجُ الْمَيِّتُ مِنَ الْقَبْرِ وَاللَّحْدِ لِعِلَّةٍ : عنوان باب کو استفتاء کی صورت دی ہے۔عبداللہ بن ابی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک بطور استثناء کے تھا اور حضرت جابر" کا نعل شخصی ہے، یعنی اپنے ذاتی جذبات کی نوعیت رکھتا ہے۔(روایت نمبر ۱۳۵) اس لئے فتویٰ کی بناء اس پر نہیں رکھی جاسکتی۔بعض فقہاء نے میت کا قبر سے دفنانے کے بعد نکالنا علی الاطلاق منع کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۷۴) امام بخاری اس فتویٰ کی تائید میں نہیں۔روایت نمبر ۱۳۵۱ کے الفاظ : فَإِذَا هُوَ كَيَوْمٍ وَضَعْتُهُ هُنِيَّةٌ غَيْرَ أُذُنِهِ اصل میں یوں ہیں: غَيْرَ هنِيَّةٍ فِي أُذُنِهِ۔یہ الفاظ ابن السکن اور نسفی کے نسخوں میں ملتے ہیں اور انہی الفاظ کو مد نظر رکھتے ہوئے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۷۶) باب ۷۸: اللَّحْدُ وَالشَّقُ فِي الْقَبْرِ قبر میں لحد اور شگاف ١٣٥٣ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ :۱۳۵۳ عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اللَّهِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عبد الله بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نے کہا: ( لیث بن سعد نے ہمیں بتایا۔(لیٹ نے کہا : )