صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 725
خاری جلد ۲ ۷۲۵ ٢٣ - كتاب الجنائز وَكَانَ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گرتہ پہنایا تھا۔سفیان بن عیینہ ) نے کہا: اور ابو ہارون وَسَلَّمَ قَمِيْصَانِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبْدِ اللهِ يَا کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو گرتے پہنے رَسُوْلَ اللهِ أَلْبِسْ أَبِي قَمِيْصَكَ الَّذِي ہوئے تھے۔عبداللہ کے بیٹے نے آپ سے کہا: یا رسول يَلِي جِلْدَكَ قَالَ سُفْيَانُ فَيُرَوْنَ أَنَّ الله میرے باپ کو اپنا وہ گرتہ پہنا ئیں جو آپ کے جسم النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَ عَبْدَ سے لگا ہوا ہے۔سفیان کہتے تھے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللَّهِ فَمِيْصَهُ مُكَافَأَةً لِمَا صَنَعَ اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو اپنا گرتہ اس احسان کے عوض پہنایا تھا جو اس نے کیا تھا۔اطرافه ۱۲۷۰، ۳۰۰۸، ۵۷۹۵ ١٣٥١ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا بِشْرُ ۱۳۵۱ مدد نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) بشر بن مفضل بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا حُسَيْنَ الْمُعَلِّمُ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) حسین معلم نے ہمیں عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا بتایا۔انہوں نے عطاء بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت حَضَرَ أَحَدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب اُحد کی مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُوْلًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ لڑائی ہوئی۔تو میرے باپ نے رات کو مجھے بلایا اور کہا: مجھے مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ یہی معلوم ہوتا ہے کہ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِيْ أَعَزَّ عَلَيَّ ساتھیوں کے ساتھ مارا جاؤں گا جو پہلے شہید ہوں گے اور میں مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ذات کے سوا اپنے بعد مجھ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنَا فَاقْضِ زادہ عزیز اپنے لئے کس کونہیں چھوڑ رہا اور ھپر قرض ہے اسے وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا فَأَصْبَحْنَا ادا کر دینا اور اپنی بہنوں سے اچھا سلوک رکھنا۔ہم صبح اٹھے تو میرے باپ ہی پہلے شہید ہوئے اور میں نے ہم ان کو قبر میں ہے فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيْلٍ وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي دفن کیا۔ان کے ساتھ ایک اور بھی تھا۔اس کے بعد میرے نفس قَبْرٍ ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ نے گوارا نہ کیا کہ میں دوسرے کے ساتھ اُن کو رہنے دوں۔اس الْآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ ہے میں نے ان کو چھ ماہ کے بعد نکلا تو کیا دیکھتا ہوں وہ ویسے لئے لفظ دُفِنَ “ کی بجائے فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ودفنت“ ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۲۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔