صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 724 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 724

اری جلد ۲ ۷۲۴ ٢٣ - كتاب الجنائز سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مِثْلَهُ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ عَنْ طَاوُسِ عَنِ سنا۔اور مجاہد نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لِقَيْنِهِمْ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یوں روایت کی: ان کے لوہاروں اور گھروں کے لئے۔وَبُيُوتِهِمْ اطرافه: ۱٥۸۷، ۱۸۳۳، ۱۸۳۴، ٢۰۹۰ ، ۲٤٣٣ ، ۲۷۸۳، ۲۸۲۵، ۳۰۷۷ ۳۱۸۹، ٤۳۱۳۔تشريح الْأَدْخَرُ وَالْحَشِيشُ في القبر: روایت نمبر ۱۴۹ کے آخرمیں جس روایت کا حال دیا گیا ہے وہ کتاب العلم میں گزر چکی ہے۔دیکھئے کتاب العلم روایت نمبر ۱۱۲ اور ابان بن صالح کی روایت ابن ماجہ نے نقل کی ہے۔جس کے یہ الفاظ ہیں: إِلَّا الْاِذْخَرَ فَإِنَّهُ لِلْبُيُوتِ وَالْقُبُورِ (ابن ماجه، کتاب المناسک، باب فضل مكة) اور مجاہد کی روایت کتاب انجے میں دیکھئے روایت نمبر ۱۸۳۴۔اس میں لِقُبُورِهِمْ کی جگہ لِقَيْنِهِمْ ہے۔یعنی ان کے لوہاروں کے لئے۔حضرت ابو ہریرہ اور حضرت صفیہ کی مشار الیہ روائتیں روایت نمبر ۱۳۴۹ کی تائید کرتی ہیں اور تینوں روایتوں میں گھاس بچھانے کا ذکر ہے۔بَاب :۷۷ : هَلْ يُخْرَجُ الْمَيِّتُ مِنَ الْقَبْرِ وَاللَّحْدِ لِعِلَّةٍ کیا میت کسی وجہ سے قبر اور لحد سے نکالی جائے ١٣٥٠ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۱۳۵۰ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو سَمِعْتُ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار ) نے جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔أَتَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے تھے : رسول الله الله ، عبداللہ بن ابی ( کی قبر ) پر عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيَ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ آئے، جبکہ وہ اپنے گڑھے میں رکھ دیا گیا تھا۔آپ نے فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ اس کو نکالنے) کے لئے فرمایا اور وہ نکالا گیا۔آپ نے وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيْقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ اس کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا اور اس (کے منہ ) میں اپنا فَاللَّهُ أَعْلَمُ وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا لعاب دہن ڈالا اور اس کو اپنا گر نہ پہنایا۔اللہ ہی بہتر جانتا قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ أَبُو هَارُونَ ہے (ایسا کیوں کیا ؟ ) اور اس نے حضرت عباس کو اپنا