صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 723
البخاری جلد ۲ ۷۲۳ ٢٣ - كتاب الجنائز سے۔ایک کا نقص دوسری سے دور کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں دوسری روایت میں بلحاظ مضمون کچھ زیادتی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت جابز کے باپ اور چا کو اکٹھا فن کیا گیا تھا۔باب ٧٦: الْإِذْخِرُ وَالْحَشِيْشُ فِي الْقَبْرِ قبر میں اذخر اور سوکھی گھاس بچھانا ١٣٤٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۳۴۹: محمد بن عبد اللہ بن حوشب نے ہم سے بیان کیا، بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا ) کہا : ) عبدالوھاب نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے ( خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ کہا : ( خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عکرمہ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، وَسَلَّمَ قَالَ حَرَّمَ اللهُ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي أُحِلَّتْ لِی روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ملکہ کو حرم قرار سَاعَةً مِنْ نَّهَارِ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا دیا ہے۔نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس کی بے حرمتی يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا روا ر کھی اور نہ میرے بعد۔میرے لئے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لئے ہی (جنگ) روا رکھی۔نہ اس کی گھاس کائی جائے اور نہ اس کے درخت اور نہ اس کا شکار پریشان کیا جائے۔اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی تلْتَقَط لُقَطَتْهَا إِلَّا لِمُعَرْفٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُوْرِنَا فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ۔جائے، مگر شناخت کرانے والے کے لئے۔وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اذخر بھی ہمارے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقُبُوْرِنَا سناروں اور ہماری قبروں کے لئے۔آپ نے فرمایا: مگر وارد وبيوتنا 35 اذخر۔اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں نقل کیا: ہماری قبروں اور گھروں کے لئے۔وَقَالَ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ الْحَسَنِ اور ابان بن صالح نے حسن بن مسلم سے نقل کیا کہ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ حضرت صفیہ بنت شیبہ سے مروی ہے کہ (وہ کہتی