صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 722 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 722

اری جلد ۲ ۷۲۲ ٢٣ - كتاب الجنائز قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ أَنَا شَهِيدٌ عَلَی میں سے ایک کی طرف اشارہ کر کے بتایا جاتا تو آپ هَؤُلَاءِ وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ اسے حد میں پہلے اتارتے اور فرماتے : میں ان کا گواہ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسِلْهُمْ ہوں اور آپ نے ان کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی نہ انہیں غسل دیا۔اطرافه ١٣٤٣، ١٣٤٥ - ١٣٤٦ ، ۱۳٤٨، ۱۳۵۳، ٤۰۷۹۔١٣٤٨ : وَأَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ ۱۳۴۸: عبداللہ بن مبارک نے کہا: ) اوزاعی نے الزُّهْرِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ بھی ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، زہری نے اللهُ عَنْهُمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لِقَتْلَى أُحُدٍ أَيُّ ( انہوں نے کہا: ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے هَؤُلَاءِ أَكْثَرُ أَخْذَا لِلْقُرْآنِ فَإِذَا أُشِيْرَ شہیدوں کی نسبت پوچھتے : ان میں سے کس کو قرآن لَهُ إِلَى رَجُلٍ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ قَبْلَ زیادہ یاد تھا؟ جب آپ کو کسی ایک آدمی کی طرف اشارہ صَاحِبِهِ وَقَالَ جَابِرٌ فَكُفِّنَ أَبِي وَعَمِّي کر کے بتایا جاتا تو آپ اس کو اس کے ساتھی سے پہلے لحد میں اتارتے۔حضرت جابرؓ کہتے تھے: میرے والد فِي نَمِرَةٍ وَاحِدَةٍ۔اور میرے چچا ایک ہی کمبل میں کفنائے گئے۔وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنِي سليمان بن کثیر نے یوں کہا: زہری نے مجھے بتایا۔الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا ) کہا : ) اس شخص نے مجھ سے بیان کیا جس نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔اطرافه ١٣٤٣، ١٣٤٥ - ١٣٤٦، ۱۳٤٧، ۱۳۵۳، ۱۰۷۹ تشریح : مَنْ يُقَدَّمُ فِى اللَّحْدِ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل علم وفضل کا امتیاز کسی حالت میں بھی نظر انداز نہیں فرمایا اور صحابہ کرام کی تربیت ہر موقع پر مد نظر رکھی ہے، یہاں تک کہ اس وقت بھی جب موت سب کو برابر پیوند خاک کر دیتی ہے اور اس طرح اپنے قول وفعل سے ہمارے لئے اعلیٰ اسوۂ حسنہ پیش فرمایا ہے۔باب مذکورہ میں حضرت جابر کی روایت دو بار لائی گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی منقطع ہے اور دوسری متصل۔ایک میں ابن شہاب زہری نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت بواسطہ عبدالرحمن بیان کی ہے اور دوسری میں براہ راست حضرت جابر