صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 720
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن كَعْبٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔عبدالرحمن بن کعب سے عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ مروی ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ انہیں خبر دی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ موقع پر شہیدوں کو دو دو کر کے دفن کیا۔اطرافه ١٣٤٣ - ١٣٤٦، ۱۳٤٧ ، ۱۳٤۸، ۱۳۵۳، ۱۰۷۹ تشریح : دَفَنُ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبرِ واحد: روایت نمبر ۱۳۴۵ میں صرف دو کو اکٹھا کرنے کا ذکر ہے، مگر عنوان میں دو یا تین مذکور ہیں۔آیا یہ قیاسا کیا گیا ہے یا بعض دیگر روایات کی بناء پر ؟ شارحین کا خیال ہے کہ یہ تصرف اصحاب سنن کی ایک روایت کی بناء پر ہے۔جو ہشام بن عامر انصاری سے مروی ہے کہ انصار نے رسول اللہ اللہ سے جنگ اُحد میں عرض کیا کہ ہمارے شہیدوں اور قلت سامان کا یہ حال ہے تو آپ نے فرمایا: قبریں کھلی بنائی جائیں اور دودو اور تین تین ایک قبر میں دفنائے جائیں۔(ترمذی کتاب الجهاد۔باب ما جاء في دفن الشهداء) (نسائى۔كتاب الجنائز باب ما يستحب من توسيع القبر ابوداؤد۔کتاب الجنائز باب في تعمیق القبر) ترندی کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۷) باب ٧٤: مَنْ لَّمْ يَرَ غَسْلَ الشُّهَدَاءِ جو شہیدوں کو نہلا نا ضروری نہ سمجھے ١٣٤٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۱۳۴۶ ابوالولید (طیاسی) نے ہم سے بیان کیا، لَيْتْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ) کہا : ) لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب بْنِ كَعْبٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ سے ابن شہاب نے عبد الرحمن بن کعب ( بن مالک) النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْفِنُوْهُمْ سے عبدالرحمن نے حضرت جابر سے روایت کی کہ دِمَائِهِمْ يَعْنِي يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کے خونوں سمیت دفن کرو، یعنی غزوہ اُحد کے موقع يُغَسِلُهُمْ پر۔اور انہیں غسل نہیں دیا۔اطرافه: ١٣٤٣، ١٣٤٥ - ١٣٤٧ ، ۱۳٤٨، ۱۳۵۳، ۱۰۷۹