صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 719 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 719

بخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى آپ نے اُحد والوں کے لئے اسی طرح دعا کی جس طرح الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ میت کے لئے کیا کرتے تھے۔پھر آپ منبر کی طرف مڑ گئے عَلَيْكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِی اور فرمایا: دیکھو میں تمہارا پیش خیمہ ہوں اور میں تمہارے لئے الْآنَ وَإِنِّي أُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَائِنِ گواہ ہوں اور میں اللہ کی قسم! اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيْحَ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا فرمایا: زمین کی مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي چابیاں دی گئی ہیں اور مجھے بخدا تمہارے متعلق خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے، بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا خوف ہے کہ تم دنیا میں لگ جاؤ گے۔اطرافه: 35٩٦، ٤٠٤٢، ٤٠٨٥، ٦٤٢٦، ٦٥٩٠۔تشریح ہیں۔ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے شہیدوں کا جنازہ نہیں پڑھا اور دوسری میں ہے کہ آپ نے پڑھا۔اسی ظاہری اختلاف کی وجہ سے مسئلہ معنونہ میں دو گروہ ہیں۔علمائے کوفہ شہید کا جنازہ پڑھنے کے حق میں ہیں اور علمائے مدینہ اس کے خلاف۔جن کی تائید میں امام شافعی اور امام احمد بن حنبل بھی ہیں۔چنانچہ اول الذکر امام اپنی مشہور کتاب اتم میں فرماتے ہیں کہ صحیح روایتوں سے ثابت ہے کہ آپ نے شہدائے اُحد کا جنازہ نہیں پڑھا اور یہ روایت کہ ان کا جنازہ پڑھا گیا تھا اور حضرت حمزہ کے جنازہ میں ستر تکبیریں کہیں ، غلط ہے۔امام شافعی نے لفظ صگی کی توجیہ یہ کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے تقریبا آٹھ سال بعد جب آپ کی وفات کا وقت قریب ہوا، شہدائے اُحد کے لئے دعائے مغفرت و رحمت کی جو بطور الوداعی دعا کے تھی۔امام نووی نے بھی صلی کے معنی یہاں مطلق دعا کے کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۶۷، ۲۶۹) الصَّلَاةُ عَلَى الشَّهِيدِ : مذکورہ بالا باب کے ذیل میں دو روایتیں نقل کی گئی ہیں جو بظاہر متضاد باب ۷۳: دَفَنُ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَالَةِ فِي قَبْرِ وَاحِدٍ} ایک قبر میں دو یا تین آدمیوں کو دفن کرنا ١٣٤٥ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ :۱۳۴۵ سعید بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ ) کہا : ( لیث (بن سعد ) نے ہم سے بیان کیا کہ لفظ واجد فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۲۶۹)