صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 711
تشریح ری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز الصَّلَاةُ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ مَا يُدْفَنُ : مسئلہ معنونہ بھی ان مسائل میں سے ہے جن میں اختلاف ہے۔جمہور نے مطلق جواز کا فتویٰ دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے مگر امام مالک اور مخفی کے نزدیک یہ جائز نہیں۔سوائے اس صورت میں کہ کوئی بغیر جنازہ دفنایا گیا ہو۔امام ابو حنیفہ اور امام شافعی نے صرف وارث اور ان لوگوں کے لئے جو اس کے قریبی رشتہ دار ہیں جائز قرار دیا ہے کیونکہ جنازہ میں شریک ہونا ان پر بطور حق واجب ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۲۶۱-۲۶۲) (بداية المجتهد، كتاب احكام الميت، الباب الخامس، الفصل الأول المسئلة السابعة اختلفوا في الصلاة على القبر ) باب کا عنوان جملہ اسمیہ سے قائم کیا گیا ہے جس سے امام موصوف کا رجحان بھی بمطابق فتویٰ امام مالک جواز کی طرف معلوم ہوتا ہے۔جس کی تائید میں نجاشی کے جنازہ کا واقعہ ہے۔نیز روایت نمبر ۱۳۳۷ میں روایت کردہ واقعہ بھی اس کی تائید کرتا ہے۔باب ٦٧ : الْمَيِّتُ يَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِ مردہ جوتوں کے چلنے کی آواز سنتا ہے ۱۳۳۸ : حَدَّثَنَا عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۳۳۸: عياش بن ولید ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيْدٌ قَالَ وَقَالَ لِي عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ) سعید ( بن خَلِيفَةً حَدَّثَنَا ابْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا اور خلیفہ بن خیاط) نے مجھ سے کہا: سَعِيْدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ الله ہم سے ( یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا: ) سعید ( بن ابی عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے قَالَ الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتُولِيَ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ رضی اللہ انس وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بندہ جب قبر میں نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولَانِ لَهُ رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں تو مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ وہ ان کے جوتوں کی آواز تک بھی سنتا ہے۔دوفرشتے اس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُوْلُ أَشْهَدُ أَنَّهُ کے پاس آتے اور اس کو بٹھا دیتے ہیں اور کہتے ہیں: تمہارا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُوْلُهُ فَيُقَالُ انْظُرْ إِلَى اس شخص محمد کے متعلق کیا خیال ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تو یہی مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے تو