صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 710
ری جلد ۲ 21+ ٢٣ - كتاب الجنائز أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله شعبی سے سنا۔انہوں نے کہا: مجھے اس نے بتایا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوْذٍ فَأَمَّهُمْ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ قبر پر وَصَلَّوْا خَلْفَهُ قُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا يَا سے گزرا تھا اور آپ ان کے امام ہوئے اور انہوں أَبَا عَمْرٍو قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله نے آپ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔میں نے کہا: ابو عمرو! آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔عَنْهُمَا اطرافه ،۸۵۷، ۱۲٤۷، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ١۳۲۲، ١٣٢٦، 1340۔۱۳۳۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ۱۳۳۷ محمد بن فضل نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ثابت سے، رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ثابت نے ابو رافع سے، ابورافع نے حضرت ابو ہریرہ أَسْوَدَ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً كَانَ { يَكُونُ فِي رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک کالا مرد یا کہا، کالی الْمَسْجِدِ} يَقُمُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ وَلَمْ عورت { جس کا قیام مسجد میں تھا۔ہم مسجد میں جھاڑو يَعْلَمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دینا اس کا کام تھا فوت ہو گیا اور اس کے فوت ہو جانے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دی گئی۔بِمَوْتِهِ فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ مَا فَعَلَ ایک روز آپ نے اس کو یاد کیا اور فرمایا: اس کا کیا ذَلِكَ الْإِنْسَانُ قَالُوْا مَاتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ہوا؟ لوگوں نے اس کے فوت ہونے کی خبر رسول اللہ قَالَ أَفَلَا آذَنْتُمُونِي فَقَالُوْا إِنَّهُ كَانَ صلى الله علیہ وسلم کو دی۔آپ نے فرمایا: تم نے مجھے كَذَا وَكَذَا قِصَّتُهُ قَالَ فَحَقَرُوْا شَأْنَهُ اس کی خبر کیوں نہ دی؟ انہوں نے سارا واقعہ بیان قَالَ فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ کیا۔حضرت ابو ہریرہ) کہتے تھے: لوگوں نے اس کی حالت حقیر سمجھی۔آپ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر کا فَصَلَّى عَلَيْهِ اطرافه: ٤٥٨، ٤٦٠ پتہ بتا دو۔(حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے : ) پھر آپ اس کی قبر پر آئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔الفاظ " يَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ صحیح بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی کے مطابق ہیں۔(صحیح البخاری ، المجلد الاول صفحه ۱۷۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔