صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 712
صحيح البخاری جلد ۲ مِنَ ۷۱۲ ٢٣ - كتاب الجنائز الْجَنَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اسے کہا جاتا ہے: آگ میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ کر اللہ تعالی وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيْعًا وَأَمَّا الْكَافِرُ أَو نے (تیری اس شہادت کے ) بدلے میں جنت میں تیرا الْمُنَافِقُ فَيَقُوْلُ لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ ٹھکانہ بنا دیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے اور جو کا فریا منافق ہے وہ کہتا ہے: مَا يَقُوْلُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ میں نہیں جانتا جو کچھ لوگ کہتے تھے وہی میں بھی کہتا تھا۔تب اسے کہا جاتا ہے نہ تو خود سمجھا اور نہ کسی کی پیروی کی۔پھر اس ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيْحُ صَيْحَةً کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی گرز سے ضرب لگائی يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ إِلَّا التَّقَلَيْنِ جاتی ہے۔وہ ایک چیخ مارتا ہے جسے جو بھی اس کے آس پاس ہیں سنتے ہیں۔سوائے تقلین (جن وانس ) کے۔اطرافه: ١٣٧٤- شریح: اَلْمَيِّتُ يَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِ : روایت نمبر ۱۳۳۸ میں الفاظ ہیں: حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرُعَ مگر عنوان باب میں خَفْقَ النِعَالِ ہے۔شارحین کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت براء بن عازب کی روایت میں جو احمد بن حنبل اور ابو داؤد نے نقل کی ہے یہ الفاظ ہیں: وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ۔(ابوداؤد، كتاب السنة، باب في المسئلة في القبر وعذاب القبر) (مسند احمد بن حنبل، جزء ۲ صفحه ۳۴۷) بزار اور ابن حبان وغیرہ کی روایتوں میں بھی بحوالہ حضرت ابو ہریرہ یہی الفاظ منقول ہیں۔چونکہ یہ روایتیں امام بخاری کی شرائط صحت کے مطابق نہیں۔اس لئے انہیں ترک کر کے لفظ قرع کی تشریح میں لفظ خفق کونمایاں کیا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفه ۲۶۲-۲۶۳) در اصل امام بخاری نے یہاں سے آداب وفن بیان کرنے شروع کیسے ہیں۔جیسا کہ زمین بن منیر کا خیال ہے اور ان میں سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ قبر کے پاس شور وغل نہ ہو۔بلکہ وقار ومتانت خاموشی اور آہستگی اختیار کی جائے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه ۲۶۲) اس تعلق میں دیکھئے تشریح باب ۵۲۔نیز دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی۔پہلا دقیقہ معرفت - صفحه ۶ ۸ تا ۹۴، روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۰۰ تا ۴۰۸ بَاب ٦٨ : مَنْ أَحَبَّ الدَّفْنَ فِي الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ أَوْ نَحْوِهَا جو بیت المقدس یا اس جیسی زمین میں دفن ہونے کی خواہش کرے ۱۳۳۹ : حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۳۳۹: محمود نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) عبدالرزاق الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُس نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) معمر نے ہمیں بتایا۔عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے (عبداللہ ) بن طاؤس سے، عبداللہ نے اپنے