صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 708
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣٣٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ :۱۳۳۴ محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سَلِيْمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ ) کہا: ) سلیم بن حیان نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں مِيْنَاءَ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ نے کہا : ) سعید بن میناء نے ہمیں بتایا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کا جنازہ پڑھا۔تو چار تکبیریں کہیں اور یزید بن ہارون ( واسطی ) اور عبد الصمد نے کہا: سلیم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيَ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُوْنَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ سے نجاشی کا نام ) اصحمہ مروی ہے۔نیز عبد الصمد سَلِيمٍ أَصْحَمَةَ وَتَابَعَهُ عَبْدُ الصَّمَدِ۔نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔اطرافه ۱۳۱۷، ۱۳۲۰ ، ۳۸۷۷، ۳۸۷۸، ۳۸۷۹ تشريح : التَّكْبِيرُ عَلَى الْجَنَازَةِ اَرْبَعًا: تکبیروں کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تکبیریں پڑھیں اور کبھی چار یا پانچ یا چھ یا سات یا آٹھ تکبیروں کے ساتھ بھی نماز جنازہ پڑھائی ہے۔ابو خیثمہ نے اپنے باپ سے یہ روایت نقل کی ہے: قَالَ كَانَ النَّبِي ع الله يُكَبِّرُ عَلَى الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا وَّ خَمْسًا وَ سِتَّاً وَ سَبْعًا وَّ ثَمَانِيًا حَتَّى مَاتَ النَّجَاشِيُّ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَ كَبَّرَ أَرْبَعًا ثُمَّ ثَبَّتَ عَلَى أَرْبَعِ حَتْ تَوَفَّاةُ الله جمہور نے آپ کے آخری عمل کو حجت قرار دیا ہے اور اسی پر اکثر فقہاء کا اتفاق ہے۔(بداية المجتهد كتاب احكام الميت الباب الخامس الفصل الاول۔المسئلة الاولى) یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے عنوان باب قطعی فیصلے کے ساتھ قائم کیا ہے اور عنوان باب میں حضرت انسؓ کے بھولنے اور یاد دلانے پر وتھی تکبیر کہے کا جو واقعہ نقل کیا ہے۔اس سے بھی یہی مقصود ہے کہ صحابہ اس پر عامل تھے۔جن روایتوں میں تین تکبیروں کا ذکر آتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر استفتاح شمار نہیں کی گئی۔اس سمیت چا رہی تکبیریں ہوتی ہیں۔اس تعلق میں باب نمبر ۶۵ کی تشریح بھی دیکھئے۔بَاب ٦٥ : قِرَاءَةُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى الْجَنَازَةِ جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا وَقَالَ الْحَسَنُ يَقْرَأُ عَلَى الطِّفْلِ اور حسن (بصری) نے کہا: بچے کے لئے بھی سورہ فاتحہ پڑھی بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَيَقُوْلُ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ جائے اور یہ کہے: یعنی اے میرے اللہ ! اسے ہمارے لئے بہتر سامان بنا اور ہمارے اعمالِ صالحہ کے لئے اس کو بطور لَنَا فَرَطًا وَسَلَفًا وَأَجْرًا پیش خیمہ کر اور اسے ہمارے لئے موجب اجر بنا۔