صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 706
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز بَاب ٦٢ : الصَّلَاةُ عَلَى النَّفَسَاءِ إِذَا مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا زچہ کی نماز جنازہ پڑھنا؟ اگر وہ زچگی میں فوت ہو جائے ۱۳۳۱ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ۱۳۳۱ : مدد ۱۳۳۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا ، (کہا: ) یزید بن بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ زریع نے ہم سے بیان کیا، ( انہوں نے کہا: ) حسین بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ (معلم) نے ہم سے بیان کیا۔ (کہا: ) عبداللہ بن قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بریدہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت سمرہ بن جندب) وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا ۔ اطرافه: ۳۳۲، ۱۳۳۲ کے سامنے وسط میں کھڑے ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کا جنازہ پڑھا۔ جو نفاس کی حالت میں فوت ہوئی۔ آپ اس : تشريح : الصَّلَاةُ عَلَى النَّفَسَاءِ إِذَا مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا : زچگی میں موت اگرچہ شہادت کادرجہ رکتی ہے تاہم اسے شہیدوں کی طرح جنازہ سے مستثنی نہیں کیا گیا۔ اسی لئے عنوان باب میں جنازہ پڑھنے کی تصریح ہے۔ باب ٦٣ : أَيْنَ يَقُوْمُ مِنَ الْمَرْأَةِ وَالرَّجُلِ عورت اور مرد کے سامنے کہاں کھڑا ہو؟ ۱۳۳۲ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ۱۳۳۲: عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنِ عبد الوارث نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) حسین (معلم) ابْنِ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ ) بن بریدہ سے مروی ہے کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ ( انہوں نے کہا: ) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا ۔ کے پیچھے ایک عورت کا جنازہ پڑھا جو نفاس میں فوت ہو گئی تھی۔ آپ اس کے وسط میں کھڑے ہوئے۔ اطرافه: ۳۳۲، ۱۳۳۱۔