صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 705 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 705

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۰۵ ٢٣ - كتاب الجنائز صلى الله اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، حضرت عائشہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ آپؐ نے اس بیماری میں کہ جس میں آپ فوت لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوْا ہوئے، فرمایا: اللہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنی قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا قَالَتْ وَلَوْلَا رحمت سے دور رکھے۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ قبروں کو مسجدیں بنالیا ہے۔ کہتی تھیں: آپ نے یہ نہ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا فرمایا ہوتا تو آپ کی قبر کھلی رکھی جاتی مگر میں ڈرتی ہوں کہ کہیں وہ بھی مسجد نہ بنائی جائے۔ اطرافه: ٤٣٥ ، ۱۳۹۰، ٣٤٥٤، ٤٤٤١ ، 4443، 5815۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنِ اتِّخَاذِ الْمَسْجِدِ عَلَى الْقُبُورِ : باب کا عنوانِ بِنَاءُ الْمَسْجِدِ عَلَى الْقَبرِ ہے۔ یعنی قبر پر مسجد تعمیر کرنا اور یہاں عنوان میں بجائے لفظ بناء کے اتحاد ہے، جس کا مفہوم عبادت گاہ ٹھہرانا ہے۔ چنانچہ باب ۶۱ میں فاطمہ بنت حسین کا واقعہ بیان کر کے دونوں لفظوں کا فرق واضح کیا گیا ہے۔ ۹۷ھ میں حسن بن حسن جو تابعین میں سے ہیں فوت ہوئے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۲۵۵) تو ان کی بی بی فاطمہ بنت حسین نے دعا ئیں وغیرہ کرنے کی غرض سے ان کی قبر کے نزدیک خیمہ لگایا اور سال بھر تک وہیں رہیں۔ جس پر ہاتف غیبی نے تنبیہ کی۔ امام بخاری نے اس واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ قبروں پر اس طرح بیٹھنا مسجد بنانے کے مترادف ہے اور انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے خلاف ہے۔ لفظ اتخاذ اختیار کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشاد کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمُ مَسَاجِدَ اگر چہ مذکورہ بالا واقعہ میں اس قسم کی نیت نہ تھی مگر بعض وقت ایک معمولی فعل بھی بڑے گناہ کا موجب ہو سکتا ہے۔ روایت نمبر ۱۳۳۰ میں حضرت عائشہ کی احتیاط کا بھی ذکر ہے کہ انہوں نے اس حجرے کے سامنے دیوار کھنچوا کر اسے بند کروا دیا۔ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدفون تھے تا کہ لوگ شرک سے محفوظ رہیں۔ محبت میں غلو بھی شرک ہے۔ لابْرَزُوا قَبْرَهُ" کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لابرِزَ قَبُرُہ“ کے الفاظ ہیں ( فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۲۵۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔