صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 704
صحيح البخاری جلد ۲ فریح: ٢٣ - كتاب الجنائز اَلصَّلَاةُ عَلَى الْجَنَائِزِ بِالْمُصَلَّى وَالْمَسْجِدِ : یہ بتایا جاچکا ہے کہ یہودیوں میں میت کو نجس سمجھ کر اس سے پر ہیز کیا جاتا تھا۔اسلامی نقطہ نظر ان کے اس وہم کے خلاف ہے اور مسجد میں بھی استثنائی حالات میں بطور شاذ و نادر جنازہ پڑھا گیا۔صحیح مسلم میں حضرت عائشہ کی ایک روایت منقول ہے کہ سہیل بن بیضاء کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہی پڑھا تھا۔(مسلم، کتاب الجنائز، بـاب الـصــلاة على الجنازة في المسجد) جمہور نے اس بارہ میں جواز کا فتویٰ دیا ہے مگر امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے اسے مکروہ جانا ہے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا جنازہ بھی مسجد میں ہی پڑھا گیا تھا۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۵۴-۲۵۵) نجاشی کا جنازہ در حقیقت اس بصیرت کی وجہ سے پڑھا گیا تھا۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی الہی سے ہوئی تھی کہ وہ اپنے ایمان میں صادق اور مخلص تھے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی وفات کی خبر دیئے جانے کا بھی یہی منشاء معلوم ہوتا ہے جس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔یعنی آپ نے ان کا جنازہ پڑھا اور یہ ایک خاص سلوک ہے جو منشاء الہی سے صادر ہوا۔اس سے علی الاطلاق فتوی استنباط نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ آپ نے اپنے چچا ابوطالب کا جنازہ نہیں پڑھا۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نیک سلوک اس سلوک سے بدر جہا بڑھ کر تھا جو نجاشی نے مسلمان مہاجرین کے ساتھ کیا تھا۔بَاب ٦١ : مَا يُكْرَهُ مِن اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ عَلَى الْقُبُوْرِ قبروں پر مسجدیں بنانا جو مکروہ ہے وَلَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَن بن اور جب حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم فوت ہوئے عَلِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ضَرَبَتِ امْرَأَتُهُ تو ان کی بی بی (فاطمہ بنت حسین ) نے ان کی قبر پر الْقُبَّةَ عَلَى قَبْرِهِ سَنَةً ثُمَّ رُفِعَتْ ایک سال تک خیمہ لگائے رکھا۔پھر انہوں نے اٹھا فَسَمِعُوْا صَالِحًا يَقُولُ أَلَا هَلْ وَجَدُوا لیا۔لوگوں نے ایک پکارنے والے کو کہتے سنا: ارے مَا فَقَدُوْا فَأَجَابَهُ الْآخَرُ بَلْ يَئِسُوا کیا ان لوگوں نے جس کو کھویا تھا پا لیا؟ تو اس کو دوسرے نے جواب دیا: نہیں، بلکہ مایوس ہو گئے اور فَانْقَلَبُوْا لوٹ گئے۔۱۳۳۰ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ۱۳۳۰: عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں مُوْسَى عَنْ شَيْبَانَ عَنْ هِلَالٍ هُوَ نے شیبان سے، شیبان نے ہلال وزان سے، ہلال الْوَزَّانُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا