صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 702
صحيح البخاری جلد ۲ = ۷۰۲ ٢٣ - كتاب الجنائز باب ٥٩ : صَلَاةُ الصَّبْيَانِ مَعَ النَّاسِ عَلَى الْجَنَائِزِ لوگوں کے ساتھ بچوں کا جنازوں کی نماز پڑھنا ١٣٢٦ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :١٣٢٦ يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ) کہا : ) مکی بن ابی بکیر نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں زَائِدَةً حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ نے کہا : ( زائد ( بن قدامہ) نے ہم سے بیان کیا، عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ (کہا: ( ابوالحق شیبانی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عامر عَنْهُمَا قَالَ أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ (شمی) سے، عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا فَقَالُوْا هَذَا دُفِنَ أَوْ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ دُفِنَتِ الْبَارِحَةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ وسلم ایک قبر پر آئے۔لوگوں نے کہا: یہ کل رات دفنایا گیا اللهُ عَنْهُمَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّی ہے یا کہا: دفنائی گئی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھ لیں اور پھر عَلَيْهَا۔آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔اطرافه: ٨٥٧، ١٢٤٧، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ۱۳۲۲، 1336، 1340۔تشریح: صَلَاةِ الصَّبْيَانِ مَعَ النَّاسِ عَلَى الْجَنَائِزِ : باب ۵۵ میں بچوں کا بھی مردوں کے ساتھ صف باندھ کر کھڑے ہونے کا ذکر تھا اور یہاں یہ ذکر ہے کہ نماز جنازہ میں بھی وہ شریک ہو سکتے ہیں۔بَاب ٦٠: اَلصَّلَاةُ عَلَى الْجَنَائِزِ بِالْمُصَلَّى وَالْمَسْجِدِ عید گاہ اور مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا ۱۳۲۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ١٣٢٧: يحيی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور سَلَمَةَ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابو سلمہ سے روایت کی۔ان دونوں نے (ابن شہاب ) رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ نَعَى لَنَا رَسُوْلُ اللهِ کو بتایا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ