صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 701
صحيح البخاری جلد ۲ 6۔1 ٢٣ - كتاب الجنائز يْرَةَ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ * ابو ہریرہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ہند کو حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيْبِ بْن سَعِيدٍ (اور) احمد بن شبیب بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ ابْنُ انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَن يونس بن یزید ) نے ہمیں بتایا کہ ابن شہاب نے کہا اور الْأَعْرَجُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عبدالرحمن اعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ نے فرمایا: جو جنازے میں اس وقت تک شریک رہے کہ فَلَهُ قِيْرَاطٌ وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ اس کے لئے نماز جنازہ پڑھ لی جائے تو اس کو ایک قیراط لَهُ قِيرَاطَانِ قِيْلَ وَمَا الْقِيْرَاطَانِ قَالَ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ۔اطرافه: ٤٧ ١٣٢٣۔(ثواب) ہوگا اور جو دفنانے تک شریک رہے، اس کو دو قیراط۔پوچھا گیا: یہ دو قیراط کتنے ہیں۔آپ نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کی طرح۔تشریح : مَنِ انْتَظَرَ حَتَّى تُدْفَنَ : اس باب کا تعلق بھی سابقہ باب سے ہے۔روایت نمبر ۱۳۲۵ میں یہ الفاظ ہیں: مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ۔۔۔۔وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ۔۔۔۔شہود سے مراد شرکت بالفعل ہے۔یعنی مددجو جنازے کے اٹھانے وغیرہ میں اہل میت کو دی جائے۔لیکن عنوان باب میں لفظ انتظر اختیار کر کے ان لوگوں کو بھی شریک کیا ہے جو دفنانے کے منتظر ہیں۔یہ تصرف امام بخاری نے ان روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔جن میں الفاظ منِ انتظر وارد ہوئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ (۲۵) الْقِيرَاطَانِ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ : قیراط دینار کا چو بیسواں حصہ ہے۔عمل کو ایک قیراط برابر تصور کر کے نتائج کے لحاظ سے اس کے ثواب کو ایک بڑے پہاڑ کی مثال دی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے۔اس لئے رتی برابر ثواب انسان کے لئے پہاڑ جیسی عظمت رکھتا ہے۔یہ نسبت دو مختلف اعتباروں سے ہے۔مقدار عمل کے لحاظ سے تو وہ قیراط ہے اور نتائج کے لحاظ سے پہاڑ ، ثواب الہی کی حقیقت و عظمت ذہن نشین کرانے کے لیے تمثیلی بیان ہے۔رحمت الہی کی ایک خفیف سی تجلی بسا اوقات بڑی بڑی نعمتوں کا موجب ہوتی ہے اور ایک مخلص انسان کو ہر کام میں رضائے الہی مد نظر رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے جو سب سے بڑی نعمت ہے۔اس ضمن میں دیکھنے کتاب الایمان تشریح روایت نمبر ۴۲،۳۷ ، ۵۰،۴۷۔کا ہو یہ حصہ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۲۵)