صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 699
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۹ بَابِ ٥٧ : فَضْلُ اتَّبَاعِ الْجَنَائِزِ جنازوں کے ساتھ جانے کی فضیلت ٢٣ - كتاب الجنائز وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم صَلَّيْتَ فَقَدْ قَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ نے نماز پڑھ لی تو جو ( حق ) تم پر تھا وہ تم ادا کر چکے اور وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ مَا عَلِمْنَا عَلَى حميد بن ہلال (تابعی) نے کہا: نماز جنازہ پڑھنے کے الْجَنَازَةِ إِذْنَا وَلَكِنْ مَنْ صَلَّى ثُمَّ رَجَعَ بعد اجازت لینے کا ہمیں علم نہیں۔لیکن جو نماز پڑھ فَلَهُ قِيْرَاطٌ۔لے پھر لوٹ جائے تو اس کے لئے ایک قیراط (ثواب) ہوگا۔۱۳۲۳ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۱۳۲۳ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا ، (کہا : ) : کیا، جَرِيْرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا جریر بن حازم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: يَقُوْلُ حُدِثَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ میں نے نافع سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمرؓر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَقُوْلُ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً بیان کیا گیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم فَلَهُ قِيْرَاطٌ فَقَالَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ کہتے تھے: جو جنازے کے ساتھ گیا اس کے لئے ایک قیراط (ثواب) ہے۔انہوں نے کہا: حضرت عَلَيْنَا۔اطرافه ٤٧، ١٣٢٥۔ابو ہریرہ نے ہم سے بہت باتیں بیان کی ہیں۔١٣٢٤ : فَصَدَّقَتْ يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا :۱۳۲۴ تو حضرت عائشہ نے حضرت ابو ہریرہ کی هُرَيْرَةَ وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی تصدیق کی اور کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وسلم کو یہی فرماتے سنا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيْطَ کہا: تو پھر ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیئے كَثِيرَةٍ فَرَّطْتُ ضَيَّعْتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ۔ہیں۔فَرَّطْتُ کے معنی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کر دیا۔