صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 698
صحيح البخاری جلد ۲ تشریح ۶۹۸ ٢٣ - كتاب الجنائز سُنَّةُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ: عنوان باب میں تین حوالے دے کر بتایا گیا ہے کہ جنازہ کے لئے جو دعا مانگی جاتی ہے۔اس کا نام بھی صلوٰۃ ہی رکھا گیا ہے، حالانکہ اس میں رکوع اور سجدہ نہیں ہوتا۔صلوۃ اسلامی اصطلاح میں مغفرت اور رحمت کی دعا مانگتا ہے۔اسی طرح عبادت کا نام بھی صلوٰۃ ہے کہ اس میں دعائیں کی جاتی ہیں اور ان دعاؤں کی وجہ سے دعائے جنازہ کا نام بھی صلوۃ رکھا گیا ہے کہ وہ در حقیقت میت کے لئے دعائے مغفرت و رحمت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ نے جنازہ میں قرآت جائز نہیں سمجھی اور نہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے مگر مؤخر الذکر امامین نے اس میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری قرار دیا ہے۔(بداية المجتهد۔كتاب احكام الميت۔الباب الخامس فى صلاة الجنازة۔الفصل الاول المسئلة الثانية۔اختلف الناس في القراة في صلاة الجنازة) اور گو یہ دعا ہے مگر اس میں نماز کے بعض احکام مثل وضو، صف بندی، قبلہ روئی ، قیام، سکوت اور تکبیر و تسلیم ضروری قرار دئے گئے ہیں۔ایسا ہی سورج کے طلوع و غروب کی حالت میں نماز جنازہ پڑھنا بھی مکروہ ہے۔اس میں مشابہت کی وجہ سے بعض فقہاء نے امام جنازہ کے لئے بھی وہی شرط لگائی ہے جو امام الصلوۃ کے لئے ہے۔یعنی أَحْقُهُمْ عَلَى جَنَائِزِهِمْ مَنْ رَّضَوهُ لِفَرَائِضِهِمُ نماز جنازہ میں امامت کے لئے وہی زیادہ لائق ہے جو نماز فریضہ کی امامت کے لئے پسندیدہ ہو۔اس مسئلے میں یہ اختلاف ہے کہ آیا قریبی رشتہ دار جنازہ پڑھائے یا خلیفہ وقت یا اس کا نائب؟ امام شافعی و امام یوسف وغیرہ کے نزدیک قریبی رشتہ دار زیادہ مناسب ہیں۔امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل وغیرہ کے نزدیک خلیفہ وقت یا اس کا نائب۔(فتح الباری جز ۳۶ صفحه ۲۴۴) یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر نماز جنازہ سے رہ جانے کا اندیشہ ہو تو کیا تم کیا جاسکتا ہے؟ اس بارے میں حسن بصری سے دو فتوے منقول ہیں۔ایک یہ کہ تیم نا جائز ہے اور دوسرا یہ کہ جائز ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۴۴) در اصل آئمہ سے دونوں فتوے ہی مروی ہیں، جنہوں نے جواز کا فتویٰ دیا ہے انہوں نے دعائے جنازہ کو نماز پر قیاس کیا ہے اور ان میں سے جن کے نزدیک یہ فرض کفایہ یا سنت کفایہ ہے جس کا پڑھنا ہر ایک کے لئے ضروری نہیں تیم کی اجازت نہیں دی۔الدِّينُ يُسرِّ ، اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ - علامہ شعمی اور طبرانی کے نزدیک دعائے جنازہ پر صلوۃ کا لفظ قطعا اطلاق نہیں پاتا۔اس لئے وضو یا تیم کر نا ضروری نہیں۔یہ مذہب شاذ ہے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۲۴۵) اور یہی مذہب رڈ کرنے کی غرض سے عنوانِ باب میں کئی ایک حوالے دئے گئے ہیں اور امام بخاری کا استدلال یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر جنازہ میں صرف دعا ہی کرنا مقصود تھی اور صلوٰۃ فریضہ کے ساتھ اس کو کوئی نسبت نہیں اور بغیر قیود و شروط کے ہی اسے ادا کیا جاتا تو اسے صلوۃ کے نام سے موسوم کرنے کی کیا ضرورت تھی اور اس میں صفیں بندھوانے اور امام مقرر کئے جانے کی کیا حاجت؟ اس تعلق میں باب ۵۴ کی تشریح بھی دیکھئے۔امام بخاری کی غرض اس ساری بحث سے یہ ہے کہ دعائے جنازہ بھی اسی طرح تکبیر تحریمہ سے شروع ہوتی ہے جس طرح اور نماز یں۔مذکورہ بالا حوالوں کی تفصیل کے لئے عمدۃ القاری جزء ۸ صفحه ۱۲۲ تا ۱۲۴ دیکھئے۔