صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 697 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 697

صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَأَحَقُّهُمْ عَلَى وقت) اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور حسن (بصری) نے کہا: جَنَائِزِهِمْ مَنْ رَّضُوْهُمْ لِفَرَائِضِهِمْ میں نے (صحابہ اور تابعین میں سے بعض لوگوں کو پایا ہے کہ وَإِذَا أَحْدَثَ يَوْمَ الْعِيْدِ أَوْ عِنْدَ ان کے جنازوں ( کی امامت) کے لئے ان میں سے زیادہ الْجَنَازَةِ يَطْلُبُ الْمَاءَ وَلَا يَتَيَمَّمُ وَإِذَا مناسب وہی شخص ہوتا 77 جس کو وہ اپنی فرض نمازوں کے لئے انْتَهَى إِلَى الْجَنَازَةِ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ پسند کرتے۔اور اگر عید کے دن یا جنازہ کے وقت بے وضو ہو تو يَدْخُلُ مَعَهُمْ بِتَكْبِيرَةٍ وَقَالَ ابْنُ پانی کی تلاش کرے اور تینم نہ کرے اور اگر جنازہ میں ایسے الْمُسَيَّبِ يُكَبِّرُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وقت میں پہنے کہ وہ نماز جنازہ پڑھ رہے ہوں تو اللہ اکبر کہ کر وَالسَّفَرِ وَالْحَضَر أَرْبَعًا وَقَالَ أَنَسٌ ان کے ساتھ شریک ہو جائے اور (سعید ) بن مسیب نے کہا: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَكْبِيرَةُ الْوَاحِدَةُ رات کو یا دن کوسفر میں یا حضر میں ( جنازہ کی ) چار ہی تکبیریں اسْتِفْتَاحُ الصَّلَاةِ وَقَالَ وَلَا تُصَلِّ عَلَى کے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پہلی تکبیر نماز شروع کرنے کی ہے اور اللہ عزوجل) نے فرمایا ہے: ان منافقوں میں سے کسی کے لئے بھی جو مر جائے کبھی دعائے مغفرت نہ کر اور اس نماز میں بھی صفیں باندھی جائیں اور امام بھی ہو۔: ۱۳۲۲ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۱۳۲۲ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الشَّيْبَانِي عَنِ الشَّعْبِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (سلیمان) شیبانی سے، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ مَّرَّ مَعَ نَبِيِّكُمْ صَلَّی شیبانی نے شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اس شخص اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَّنْبُوْذٍ فَأَمَّنَا نے مجھے بتایا۔جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَقُلْنَا يَا أَبَا عَمْرُو مَنْ ایک الگ سی قبر پر سے گزرا تھا کہ آپ ہمارے امام ہوئے حَدَّثَكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ اور ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں۔ہم نے (شعمی سے پوچھا: ابو عمرو ! آپ کو کس نے بتایا تو انہوں نے کہا: أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا (التوبة: ٨٤) وَفِيْهِ صُفُوفٌ وَ إِمَامٌ۔عَنْهُما۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے۔اطرافه: ٨٥٧، ۱۲٤٧ ، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ۱۳۲۶، ١٣٣٦، ١٣٤٠- لفظ رَضَوَهُم" کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ”رصوہ “ کا لفظ ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفہ ۲۴۲)