صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 696
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۶ ٢٣ - كتاب الجنائز اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ قَدْ دُفِنَ لَيْلًا رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر سے گزرے جس میں فَقَالَ مَتَى دُفِنَ هَذَا قَالُوا الْبَارِحَةَ قَالَ رات کو میت دفن کی گئی تھی۔آپ نے پوچھا: یہ کب وفن أَفَلَا آذَنْتُمُونِي قَالُوْا دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ ہوئی ؟ لوگوں نے کہا: گزشتہ رات۔تو آپ نے فرمایا: اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُّوْقِظَكَ فَقَامَ کیوں مجھے اطلاع نہ دی۔انہوں نے کہا: ہم نے رات کی فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا تاریکی میں اس کو دفنایا ہے اور ہم نے پسند نہ کیا کہ آپ کو فِيْهِمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ۔جگائیں۔پھر آپ کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: میں بھی ان میں تھا۔پھر آپ نے اس کا جنازہ پڑھا۔اطرافه ،٨٥٧ ۱۲٤٧ ، ۱۳۲۱ ، ۱۳۲۲ ، ١٣٢٦، ١٣٣٦، ١٣٤٠۔تشریح: اسلام نے منع نہیں کی بلکہ حق تو یہ ہے کہ بچپن کے زمانہ ہی سے ان کی تربیت کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔امام بخاری نے اس سے قبل عیدین وغیرہ کے مواقع پر بھی بچوں کی شرکت ثابت کی ہے۔دیکھئے کتاب العیدین باب ۱۶۔بوقت نماز صف بندی کے مسئلہ کے بارے میں روایت نمبر ۱۳۲۱ اسے مزید تائید ہوتی ہے۔صُفُوق الصِّبْيَانِ مَعَ الرِّجَالِ عَلَى الْجَنَائِزِ : اجتماعی کاموں میں بچوں کی شمولیت باب ٥٦ : سُنَّةُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ جنازوں کے لئے دعا کرنے کا مسنون طریقہ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جنازہ کے لئے دعا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ وَقَالَ صَلُّوْا عَلَى مغفرت ورحمت کی اور فرمایا: اپنے ساتھی کے لئے دعائے صَاحِبِكُمْ وَقَالَ صَلُّوْا عَلَى النَّجَاشِي مغفرت و رحمت کرو۔نیز فرمایا: نجاشی کے لیے دعائے سَمَّاهَا صَلَاةً لَيْسَ فِيْهَا رُكُوْعٌ وَلَا مغفرت و رحمت کرو۔آپ نے اس دعائے مغفرت و رحمت کا سُجُوْدٌ وَلَا يُتَكَلَّمُ فِيْهَا وَفِيْهَا تَكْبِيرٌ نام نماز رکھا ہے۔اس میں نہ رکوع ہوتا ہے نہ سجدہ اور نہ اس وَتَسْلِيْمٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يُصَلِّي إِلَّا میں بات کی جاتی ہے اور اس میں تکبیر و تسلیم ہوتی ہے اور طَاهِرًا وَلَا يُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ حضرت ابن عمر یہ نماز باوضو ہی پڑھا کرتے تھے اور سورج نکلنے وَلَا غُرُوبِهَا وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَقَالَ الْحَسَنُ کے وقت نہ پڑھتے ، نہ ڈوبنے کے وقت۔اور (تکبیر کے