صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 695
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۵ ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۳۲۰ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۱۳۲۰ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوْسُفَ أَنَّ ابْنَ ) کہا : ( ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج ) جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاء أَنَّهُ نے انہیں خبر دی۔انہوں نے کہا: عطاء نے مجھے بتایا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ الله کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا يَقُوْلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے سنا۔وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ آج حبشیوں میں سے ایک نیک آدمی فوت ہو گیا الْحَبَشِ فَهَلُمَّ فَصَلُّوْا عَلَيْهِ قَالَ ہے۔آؤ اس کا جنازہ پڑھیں۔(حضرت جابر) فَصَفَفْنَا فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے تھے : ہم نے صفیں باندھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَنَحْنُ صُفُوْفٌ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ نے نماز پڑھائی۔جب کہ ہم صف بستہ تھے اور عَنْ جَابِرٍ كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي۔ابوز بیر نے حضرت جابر سے یوں نقل کیا: میں دوسری صف میں تھا۔اطرافه ۱۳۲۰ ، ۱۳۳۴ ، ۳۸۷۷، ۳۸۷۸، ۳۸۷۹ الصُّفُوفَ عَلَى الْجَنَازَةِ : جہاں تک صف بندی کے مسئلہ کا تعلق ہے وہ اس باب اور مابعد کے باب کی روایتوں سے واضح ہے۔تشریح: نَعَى النَّبي عل الله إِلَى اَصْحَابِهِ النَّجَاشِي : جس دن نجاشی فوت ہوئے ، اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی موت کی خبر دینا از قبیل علم غیب ہے، جس کی ایک مثال اس سے پہلے روایت نمبر ۱۲۹۹ میں گزرچکی ہے۔جس کی آنکھ عالم غیب کے مشاہدات سے بہرہ ور ہو۔اس کے کان اس عالم کی مخصوص آوازوں کے بھی شنوا ہوتے ہیں۔بَاب ٥٥ : صُفُوْفُ الصَّبْيَانِ مَعَ الرِّجَالِ فِي الْجَنَائِزِ جنازوں میں مردوں کے ساتھ بچوں کا صفیں باندھنا ۱۳۲۱: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۳۲۱ موسی بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عبد الواحد بن زیاد) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کہا: شیبانی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عامر (شعبی ) سے، ) رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ