صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 694 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 694

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۴ ٢٣ - كتاب الجنائز تشریح: مَنْ صَفَّ صَفَّيْن اَوْ ثَلاثَةٌ عَلَى الْجَنَازَةِ خَلْفَ الْإِمَام : شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی اجتماعی کام میں بدنظمی گوارا نہیں فرمائی بلکہ اس میں حسن انتظام کی صورت ضروری سمجھی۔دعائے جنازہ کے وقت صفوں کا بنانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح نماز میں۔باب ۵۴، ۵۵ میں عطاء کے فتویٰ کا رو مقصود ہے۔ان کے نزدیک جنازہ پڑھنے کے لئے صفیں باندھنا شرعی حکم نہیں۔( فتح الباری تحت تشریح باب ۵۴ جزء ۳۰ صفحه ۲۳۸) امام مالک سے متعلق مروی ہے کہ وہ جنازہ میں ایک صف باندھنا مستحب سمجھتے تھے۔(فتح الباری تحت تشریح باب ۵۶ جز ۳۶ صفحه ۲۴۵) امام بخاری کی رائے اس کے خلاف ہے۔جس کا اظہار انہوں نے باب ۵۶ کے عنوان میں بھی فِيْهِ صُفُوفٌ وَّ إِمَامٌ کہہ کر کیا ہے۔باب ٤ ٥ : الصُّفُوْفُ عَلَى الْجَنَازَةِ جنازہ کے سامنے صفیں باندھنا ۱۳۱۸ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيْدُ ۱۳۱۸ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) یزید بن زریع بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا۔سَعِيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید (بن مسیٹب) سے، قَالَ نَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نجاشی کے فوت إِلَى أَصْحَابِهِ النَّجَاشِيَّ ثُمَّ تَقَدَّمَ ہونے کی خبر دی۔پھر آپ آگے بڑھے اور انہوں نے آپ کے فَصَفُوْا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا۔پیچھے صفیں باندھیں اور آپ نے چار تکبیریں کہیں۔اطرافه: ١٢٤٥، ۱۳۲٧، ۱۳۲۸، ۱۳۳۳، ۳۸۸۰، ۳۸۸۱۔۱۳۱۹ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۳۱۹ مسلم بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا، کہا : ) حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنِ الشَّعْبِي قَالَ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ (سلیمان) شیبانی نے ہمیں أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بتا یا شعبی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اس شخص نے مجھے وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى عَلَى قَبْرِ مَنْبُوْدٍ فَصَفَّهُمْ بتایا جوبي ﷺے کے ساتھ تھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر پر آئے۔آپ نے لوگوں کی صفیں بندھوائیں اور چار تکبیریں وَكَبَّرَ أَرْبَعًا قُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ کہیں۔میں نے کہا: اے ابو عمرو! آپ کو کس نے بتایا ؟ حَدَّثَكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا۔انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے۔اطرافه ،٨٥٧ ۱۲٤٧، ۱۳۲۱، ۱۳۲۲، ۱۳۲۶، 1336، 1340۔