صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 693
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۳ ٢٣ - كتاب الجنائز دنیا کی فضاء میں اتنا شور پاتا کہ اپنی آواز دوسروں کو سنانا تو در کنار وہ خود بھی اسے سن نہ سکتا، بلکہ محققین کا اندازہ ہے کہ اس کے کان کے پردے پھٹ جاتے۔ مثال کے طور پر گھاس کی سبز نھی پتیوں کو لو ان میں سے ہر ایک پتی اپنی نشونما میں جب اس کے باریک ذرات کی تقسیم اور اس کے انفصال (ایک دوسرے سے جدا ہونے) کا عمل ہوتا ہے تو وہ ہنگامہ خیز محشر کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ کروڑ ہا خلیہ کے مجموعہ کی وہ ایک پتی ہے، مگر اس کا ہر خلیہ ہر لحظہ میں اسی طرح پھٹتا ہے۔ جس طرح ایک بارود سے بھرا ہوا گولہ۔ کروڑ با خلیوں کے پھٹنے کی آواز میں اگر ہم سن پائیں تو یوں معلوم ہوگا کہ یہ خاموش عالم نبات عالم نبات نہیں بلکہ بارود کا ایک عظیم کارخانہ ہے۔ جس میں گولے لحظہ بہ لحظہ پھٹ رہے ہیں۔ اس ایک مادی تغیر کی وسعت و عظمت کا صحیح تصور کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ چہ جائیکہ عالم روحانی کی کیفیت و کمیت کا ادراک کر سکیں۔ میت کا یہ قول کہ مجھے آگے لے چلو بصورت زبان حال ہے جو ہر شئے کے لئے جدا جداصورت رکھتی ہے۔ کنوئیں میں ایک ڈول کی مخصوص آواز سے ہم بغیر دیکھے سمجھ جاتے ہیں کہ وہ بھر گیا ہے۔ خالق کو نین نے ہر چیز کو ایک زبان عطا کی ہے۔ جس سے وہ اپنی مخفی کیفیت وصفات کا اظہار کرتی ہے۔ فرماتا ہے: قَالُوا انْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي انْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ( حم سجدہ:۲۲) { وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے ہمیں بولنے کی توفیق دی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اور فرماتا ہے: تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا (بنی اسرائیل: ۴۵) { اس کی تسبیح کر رہے ہیں سات آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے۔ اور کوئی چیز نہیں مگر وہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہی ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔ وہ یقینا بہت بُردبار (اور ) بہت بخشنے والا ہے۔ } اور عارف کو وہ آنکھیں اور کان عطاء کئے گئے ہیں جو زبان حال کی قیل و قال اور زمین و آسمان کی تسبیح و تحمید سمجھتے ہیں۔ غرض اس مادی دنیا میں بھی ہمارے پاس پس و پیش سینکڑوں تغیرات ایسے ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں آوازیں اور گونجیں پیدا ہوتی ہیں اور انسان انہیں نہیں سمجھتے۔ بَاب ٥٣ : مَنْ صَفَّ صَفَّيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً عَلَى الْجَنَازَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ جو امام کے پیچھے جنازے کے سامنے دو یا تین صفیں باندھیں ۱۳۱۷ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ أَبِي ۱۳۱۷: مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو عوانہ عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ سے ، انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے عطاء سے، عطاء بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی الله صَلَّى عَلَى النَّجَاشِي فَكُنْتُ کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کا جنازہ پڑھا۔ فِي الصَّفِ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ ۔ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ الله اطرافه ۱۳۲۰، ۱۳۳۷ ، ۳۸۷۷، ۳۸۷۸، ۳۸۷۹