صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 55 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 55

البخاری جلد ۲ ۵۵ ١٠ - كتاب الأذان لَقَدْ هَمَمْتُ اَنْ أمُرَ الْمُؤَدِّنَ : باب ۲۹ یعنی وُجُوبُ صَلوةِ الْجَمَاعَةِ کا مضمون یہاں ختم ہے۔باب ۲۹ میں بھی یہی حدیث ہے اور یہ باب بھی اس حدیث پر ختم ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک نماز فریضہ کی فضیلت کا اصل سبب یہی ہے کہ جماعت کے ساتھ اس کی ادائیگی لازمی ہے۔اسی لئے انہوں نے ابواب کے عنوان قائم کرنے میں لطیف تصرفات سے کام لیا ہے۔مثلاً باب ۳۱: فَضْلُ صَلوةِ الْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ اور باب ۳۴: فَضْلُ الْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ ان دو ابواب کے درمیان باب :۳۲: فَضْلُ التَّهجير إِلَى الظهر رکھ کر اس ضمن میں یہ حدیث بیان کی ہے: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْبَدَاءِ وَالصَّتِ الْاَوَّلِ ( روایت نمبر ۶۵۳) حَيَّ عَلَى الصَّلوة کی نداء سے بھی جو ایک حکم ہے اسی امر کی تائید ہوتی ہے کہ نماز فریضہ وہ نماز ہے جو باجماعت پڑھی جانی چاہیے۔حکم وَأَقِيمُو الصَّلوةَ اورحم وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ( البقرہ: ۴۴) بھی اسی مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔باب ٣٥ : اِثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ دو یا دو سے زیادہ جماعت ہوتی ہے ٦٥٨ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۶۵۸ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید بن يَزِيْدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ زُرَیج نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد نے ہمیں بتایا۔أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَّالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنِ انہوں نے ابو قلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت مالٹ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بن حویرث سے، حضرت مالک بن حویرث نے نبی حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِنَا وَأَقِيْمَا ثُمَّ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: لِيَؤُ مَّكُمَا أَكْبَرُ كُمَا۔جب نماز کا وقت آئے ؛ تم دونوں اذ ان دو اور تکبیر اقامت کہو۔پھر تم دونوں میں سے جو بڑا ہو؛ امام ہو۔اطرافه ٦٢٨ ٦٣٠، ٦٣١، ٦٥٨ ٦٨٥، ٨١٩، ٢٨٤٨، ٦٠٠٨، ٧٢٤٦۔تشریح کی تعریف کی ہے۔اِثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ۔اگر دو شخص بھی امام اور مقتدی بن کر ا کٹھے نماز پڑھیں تو ان کی نماز با جماعت کہلائے گی اور سمجھا جائے گا کہ انہوں نے فریضہ نماز ادا کر دیا؛ خواہ مسجد میں یا مسجد کے باہر کسی اور جگہ جبکہ معذوری لاحق ہو۔جیسا کہ حضرت عتبان بن مالک کو جو نا بینا تھے ، اپنے گھر میں نماز پڑھانے کی اجازت بوجہ معذوری دی گئی۔وہ نہ صرف اندھے تھے بلکہ ان کے لئے یہ بھی مشکل تھی کہ ان کے راستے میں سیلابی نالہ تھا جو بارشوں میں ناقابل عبور ہو جاتا۔ایسی معذوری کی حالت میں بھی انہیں گھر پر تنہا نماز پڑھنے کی اجازت نہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِثْنَانِ فَمَا فَوْقَهَمَا جَمَاعَةٌ : نماز باجماعت پڑھنے کی فرضیت ثابت کرنے کے بعد باجماعت