صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 54
البخاری جلد ۲ ۵۴ باب ٣٤: فَضْلُ الْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ عشاء کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت ١٠ - كتاب الأذان ٦٥٧ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ :۶۵۷: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ میرے باپ نے ہمیں بتایا، کہا: اعمش نے ہم سے حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بیان کیا ، کہا : ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ سے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: نبی صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِيْنَ مِنَ الْفَجْرِ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقوں پر فجر اور عشاء وَالْعِشَاءِ وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِيْهِمَا کی نماز سے زیادہ بوجھل اور کوئی نماز نہیں اور اگر وہ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ جانتے کہ ان میں کیا ثواب ہے تو وہ ان نمازوں میں آمُرَ الْمُؤَذِنَ فَيُقِيْمَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُ آتے۔اگر چہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ہی۔النَّاسَ ثُمَّ آخَذَ شُعَلًا مِنْ نَّارٍ فَأُحَرِّقَ میرے دل میں آیا کہ میں مؤذن سے کہوں کہ وہ نماز عَلَى مَنْ لَّا يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ بَعْدُ۔کے لئے اقامت کی تکبیر کہے۔پھر میں ایک شخص سے کہوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔پھر میں اطرافه ٦٤٤ ، ٢٤٢٠، ٧٢٢٤۔تشریح انگارے لوں اور ان کے مکانوں کو آگ لگا دوں جو ابھی تک نماز کے لئے نہیں نکلے۔فَضْلُ الْعِشَاءِ فِى الْجَمَاعَةِ: نماز عشاء باجماعت پڑھنے کی فضیلت اس سے عیاں ہے کہ وہ مومن اور منافق کے درمیان فرق ظاہر کرتی ہے۔منافقوں کی نسبت قرآن مجید فرماتا ہے: وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوا كُسَالَى (النساء : ۱۴۳) یعنی نماز ان کے لئے دو بھر ہوتی ہے۔جب نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو سستی سے اٹھتے ہیں۔لیکن فجر اور عشاء کی نمازیں ایسے اوقات میں ہیں کہ وہ اپنی مستی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ان کا نفاق ان کے تقاضائے ایمان پر غالب آ جاتا ہے۔لَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَا تَوْهُمَا وَلَوْ حَبُوا : اگر وہ جانتے کہ یہ دونوں نمازیں بوجہ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے کے کتنی بڑی رضاء الہی کا موجب ہیں تو اگر وہ اپانی بھی ہوتے تب بھی گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے چل کر ان نمازوں میں شامل ہوتے۔