صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 56 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 56

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۶ ١٠ - كتاب الأذان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز فریضہ سے متعلق یہی سمجھتے تھے کہ وہ باجماعت ہی ادا ہونی چاہیے اور اس میں آپ نے حضرت عتبان کو یہ سہولت دی کہ وہ گھر پر ہی باجماعت نماز پڑھ لیا کریں۔( روایت نمبر ۴۲۴، ۴۲۵) باب ٣٦ مَنْ جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ وَفَضْلُ الْمَسَاجِدِ جو مسجد میں نماز کی انتظار کے لئے بیٹھے اور مسجدوں کی فضیلت ٦٥٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۵۹ عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوزناد سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ مَا لَمْ ملائکہ تم میں سے ایک کے لئے جب تک کہ وہ اپنی يُحْدِثُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ جائے نماز میں ہے، دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔بشرطیکہ وہ بے وضو نہ ہو جائے۔( کہتے ہیں:) لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتِ اے اللہ ! اسے معاف کر اے اللہ ! اس پر رحم کر۔تم الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ میں سے ایک شخص نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ۔نماز کی وجہ سے وہ رکا رہے۔سوائے نماز کے اور کسی بات نے اس کو اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنے سے نہ روکا ہو۔اطرافه ١٧٦، ٤٤٥ ٤٧٧ ٦٤٧، ٦٤٨، ۲۱۱۹، ۳۲۲۹، ۱۷۱۷ ٦٦٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ :۶۶۰ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا بچی نے حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي ہمیں بتایا، کہا: ) عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حبیب بن عبد الرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں حُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ نے حفص بن عاصم سے۔حفص نے حضرت ابو ہریرہ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے