صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 692
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۲ ٢٣ - كتاب الجنائز ابن عمر کی یہ روایت: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَ اَحَدُكُم فَلَا تَحْبِسُوهُ وَأَسْرِعُوا بِهِ إلى قبره (فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۳۵) اور یہ روایت: لَا يَنبَغِى لَجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تَبْقَى بَيْنَ ظَهْرَانِي أَهْلِهِ یعنی مسلمان کی میت اس کے اہل وعیال میں دیر تک نہیں رہنی چاہیے۔چلنے سے متعلق یہی حکم ہے کہ وقار کے ساتھ درمیانی روش اختیار کی جائے۔عبد الرحمن بن ابزئی نے حضرت علی کا یہ قول نقل کیا ہے : المَشَيْ خَلْفَهَا أَفْضَلُ مِنَ الْمَشْيِ أَمَامَهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْفَذ۔یعنی جنازہ کے پیچھے چلنا اس کے آگے چلنے سے بہتر ہے جس طرح باجماعت نمازا کیلے کی نماز سے بہتر ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۳۴۰، ۲۳۵) بَاب ٥٢ : قَوْلُ الْمَيِّتِ وَهُوَ عَلَى الْجَنَازَةِ قَدِّمُوْنِي میت کا جب کہ وہ چار پائی پر ہو یہ کہنا کہ مجھے آگے لے چلو ١٣١٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۳۱۶: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا سَعِيْدٌ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ کیا، کہا: ) ليث ( بن سعد ) نے ہم سے بیان کیا۔سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ (انہوں نے کہا: ) سعید نے ہمیں بتایا انہوں نے اپنے عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ باپ (کیان) سے روایت کی۔ان کے باپ نے وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب میت كَانَتْ صَالِحَةٌ قَالَتْ قَدِمُونِي وَإِنْ (چار پائی پر ) رکھ دی جائے اور لوگ اسے اپنی گردن پر اٹھائیں تو اگر نیک (روح) ہوئی تو وہ کہے گی: مجھے آگے كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِأَهْلِهَا يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُوْنَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا لے چلو اور نیک نہ ہوئی تو وہ اپنے لوگوں سے کہے گی: ہائے مصیبت ! تم اسے کہاں لئے جارہے ہو؟ ہر چیز كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ سوائے انسان کے اس کی آواز سنتی ہے اور اگر انسان سنتا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ۔اطرافه: ۱۳۱٤ ، ۱۳۸۰ تشریح: تو بے ہوش ہو کر گر پڑتا۔قَوْلُ الْمَيِّتِ : دنیا میں ہر آن ہزاروں تغیرات ایسے ہو رہے ہیں جو فضاء میں اسی طرح لہریں پیدا کر رہے ہیں۔جس طرح ہماری زبان کی حرکت سے لہریں پیدا ہوتی ہیں۔مگر ان کے ادراک سے انسان کی شنوائی محروم رکھی گئی ہے۔اگر اس کو ان کے سننے کی طاقت دی جاتی تو دنیا میں اس کے لئے ایک لمحہ بھر رہنا دشوار ہو جاتا۔وہ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں "يَذْهَبُونَ“ کی بجائے لذْهَبُونَ“ کا ہے (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۲۳۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔