صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 691
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۱ ٢٣ - كتاب الجنائز بَابِ ٥١ : السُّرْعَةُ بِالْجَنَازَةِ جنازے کو جلدی لے چلنا وَقَالَ أَنَسٌ لا أَنْتُمْ مُشَيِّعُونَ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم الوداع کہنے کے وَامْشِ بَيْنَ يَدَيْهَا وَخَلْفَهَا وَعَنْ يُمِيْنِهَا لیے ساتھ جا رہے ہو۔اس لیے اس کے آگے اور پیچھے اور وَعَنْ شِمَالِهَا وَقَالَ غَيْرُهُ قَرِيْبًا مِنْهَا۔اس کے دائیں اور اس کے بائیں چلو اور ( حضرت انس ) کے سوا دوسروں نے کہا ہے کہ اس کے قریب چلیں۔۱۳۱۵ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ ۱۳۱٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنَ ) کہا : ( سفیان بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ انہوں نے کہا: ہم نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ہے۔انہوں نے سعید بن مسیب سے ،سعید نے حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا ابوهریره رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرۃ نے نبی بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جنازہ جلدی لے جایا کرو۔اگر نیک (روح) ہوئی تو تم تُقَدِّمُوْنَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُ سِوَى ذلك فَشَرِّ تَضَعُوْنَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ۔اچھی چیز آگے لے جارہے ہو اور اگر نیک نہ ہوئی تو وہ بری ہوگی۔جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔تشریح السُّرُعَةُ بالجَنَازَةِ : اس عنوان سے کیا مراد ہے، آیا جنازہ کو اٹھا کر جلدی چلنا یا جنازہ کے لئے میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا ؟ امام بخاری نے عنوان باب میں اَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ کا مفہوم المشی یعنی مطلق چلنے سے ادا کیا ہے اور اس کے لئے حضرت انس وغیرہ کے قول کا حوالہ دیا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن قرط نے ایک جنازہ دیکھا۔کچھ لوگ آگے نکل گئے تھے اور کچھ پیچھے رہ گئے تھے۔انہوں نے جنازہ نیچے رکھوایا اور ان سب کو اکٹھا کیا اور کہا: اِمْشُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَخَلْفَهَا وَعَنْ يَّمِيْنِهَا وَعَنْ شِمَالِهَا علامہ ابن حجر عسقلانی" کا خیال ہے کہ الفاظ الْمَشْیٰ وغیرہ سے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۲۳۴) اور عنوان باب میں وائش سے یہ بات نمایاں کی گئی ہے۔غرض مذکورہ بالا واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ سے جلدی جلدی چلنا مراد نہیں، ورنہ جو لوگ آگے نکل گئے تھے ان کو واپس بلانے کی ضرورت نہ تھی۔اس مفہوم کی تائید دوسری روایتیں بھی کرتی ہیں۔مثلاً حضرت